کراچی واٹر کارپوریشن کی جانب سے مختلف پائپ لائنوں اور پمپنگ اسٹیشنز کی مرمت کے باعث شہر قائد میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوگئی ہے۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن سے منسلک 11 کے لائن میں 48 انچ کی مرکزی پائپ لائن میں لیکیج کے باعث پانی کی فراہمی منقطع ہوئی جس کے نتیجے میں تین پمپ عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
اسی دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کا ایک پمپ بھی مرمت کے لیے روک دیا گیا ہے جس سے پانی کا مجموعی نظام مزید متاثر ہوا ہے۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق اسکیم 33، صفورا، نارتھ ناظم آباد، گلبرگ، لیاقت آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور فیڈرل بی ایریا سمیت مختلف علاقے شدید قلت کا شکار ہیں۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ مرکزی لائنوں کی بندش کے باعث واٹر ٹینکر سروس بھی معطل ہو چکی ہے جس سے شہر میں پانی کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرمتی کام کے باعث تقریباً 150 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہے۔
واٹر کارپوریشن کے حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مرمتی کام آئندہ دس گھنٹوں میں مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد پانی کی فراہمی بتدریج بحال ہوجائے گی۔
اس سے قبل واٹر کارپوریشن نے کہا تھا کہ مرمت کے دوران شہر کو متبادل ذرائع سے تقریباً 500 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ نظام مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے طویل عرصے سے جاری پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ وعدے کے مطابق شہباز اسپیڈ میں شہر کے پانی کے مسئلے کا حل یقینی بنائیں۔
حب کینال کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومتوں کو مل کر کراچی کے شہریوں کو صاف اور مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شہر کے صنعتی علاقوں کو بھی پانی کی فراہمی کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








