کراچی: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے دی گئی آج ملک گیر ہڑتال کی کال بری طرح ناکام ہوگئی کیونکہ مذہبی تنظیموں، سول سوسائٹی اور تاجروں نے مشترکہ طور پر ہڑتال کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عوام، معیشت اور امن عامہ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
مختلف تاجر رہنماؤں، علما اور سماجی شخصیات نے بیانات جاری کرتے ہوئے ٹی ایل پی کی جانب سے سڑکوں کی بندش، توڑ پھوڑ اور تصادم کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ احتجاج کا یہ طریقہ نہ اسلامی ہے اور نہ ہی اخلاقی۔
تاجر رہنما عاطف اکرم شیخ نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں پر بلاجواز اعتراضات اور پرتشدد مظاہرے صرف عوام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق کاروبار بند ہونے سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر نے بھی اعلان کیا کہ ملک بھر کی تاجر برادری کسی قسم کی ہڑتال میں حصہ نہیں لے گی اور تمام کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
تاجر رہنما عمر بٹ نے بھی تصدیق کی کہ جمعہ کے روز ملک بھر کی مارکیٹیں حسبِ معمول کھلی رہیں گی۔
دینی شخصیات حافظ امیر حمزہ ، مولانا عبدالمنان، محمد رمزان پیرزادہ اور مولانا حق نواز نے بھی ٹی ایل پی کی ہڑتال کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کا وقت اور مقام دونوں ناموزوں ہیں۔
حافظ امیر حمزہ کے مطابق جب غزہ میں امن بحال ہوچکا ہے اور فلسطینی جشن منا رہے ہیں، تو اب ٹی ایل پی کی ہڑتال کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
مولانا عبدالمنان نے خبردار کیا کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت یا خوف کا استعمال نہ اسلامی ہے نہ اخلاقی۔
مولانا حق نواز نے دعویٰ کیا کہ بھارت بعض عناصر کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی غیر ملکی سازش کا حصہ نہ بنیں۔
سماجی رہنما ضیاءالحق قاسم خان بلوچ نے کہا کہ مذہب کے نام پر سڑکیں بند کرنا اور احتجاجی جلسے جلوس منعقد کرنا غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے، جس سے مریضوں اور مسافروں سمیت عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تمام رہنماؤں نے مشترکہ طور پر ٹی ایل پی سے مطالبہ کیا کہ وہ ہڑتال اور سڑکوں پر احتجاج ختم کرے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی ہڑتال نہ صرف قومی مفاد کے خلاف ہے بلکہ ملک میں امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








