نیفے میں گولی چلی نہ ہاتھ ٹوٹا کیونکہ! خاتون کو ہراساں کرنے والا پولیس اہلکار تھا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو ؛آن لائن)

سرگودھا میں ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کو خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ واقعہ اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں متعلقہ پولیس اہلکار کو وردی میں خاتون کے ساتھ نازیبا حرکت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں اہلکار کا نام اور عہدہ بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے پر ردِ عمل دیتے ہوئے اپنے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بیان جاری کیا کہ ایسے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس کے باوجود سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے سخت تنقید دیکھنے میں آ رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ جب کوئی عام شہری ایسے جرائم میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے سخت ترین سزا دی جاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات دورانِ گرفتاری اس پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں ہراسانی کے الزام میں ملزمان کے ہاتھ توڑ دیے گئے یا اُن کے جسم کے نازک حصوں پر گولیاں مار دی گئیں۔

تحریک انصاف اسلام آباد کے صدر عامر مغل نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اُن کا مؤقف تھا کہ پنجاب میں سی سی ڈی (C.C.D) کے نام پر ایک متنازع رویہ دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں بعض افراد کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے سخت سزائیں دی جا رہی ہیں جبکہ کچھ کو صرف تھانے میں بند کر کے معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔

عامر مغل اور دیگر صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس کا اہلکار ہراسانی میں ملوث ہو تو اُس کے ساتھ نرمی کیوں برتی جاتی ہے؟ اور کیا قانون سب کے لیے برابر نہیں ہونا چاہیے؟ ان کا کہنا تھا کہ ماورائے عدالت سزائیں کسی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کی جاتیں لیکن اگر قانون کا اطلاق ایک جیسا نہ ہو تو یہ بھی ایک قسم کی ناانصافی ہے۔

اس بحث کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ گزشتہ ماہ سیالکوٹ میں ایک شخص نے کم عمر بچی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو اُس نے مزاحمت کی اور جیب سے پستول نکال لیا۔ اسی دوران گولی چل گئی جو کہ اُس کے نازک حصے پر لگی اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔

عوامی رائے عامہ میں اب یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر عام شہری کے ساتھ اتنا سخت رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے تو پولیس اہلکار کے ساتھ نرمی کیوں؟ کیا انصاف صرف کمزوروں کے لیے ہے؟ یا پھر واقعی اس ملک میں دو طرح کے قانون رائج ہیں؟

Related Posts