یورو پول نے ایک بڑی بین الاقوامی کارروائی کے دوران ایک ایسا جرائم پیشہ نیٹ ورک ختم کر دیا ہے جو جعلی سم کارڈز کے ذریعے ہزاروں افراد کو دھوکہ دینے اور ملین یورو کا نقصان پہنچانے میں ملوث تھا۔ اس کارروائی کو آپریشن سم کارٹل کا نام دیا گیا۔
یورو پول اور لٹویا کی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کارروائی میں منظم سائبر فراڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے پانچ سرورز بند کیے گئے جبکہ 1,200 سم باکس ڈیوائسز اور 40 ہزار فعال سم کارڈز قبضے میں لے لیے گئے۔
Europol and Latvian law enforcement dismantled five servers, seized 1,200 SIM box devices and 40,000 active SIM cards.
The criminals were linked to over 1,700 cyber fraud cases in Austria and 1,500 in Latvia, causing losses of several million euros, including EUR 4.5 million in… pic.twitter.com/cJbRBOwKd9
— AlexandruC4 (@AlexandruC4) October 18, 2025
حکام کے مطابق یہ مجرمانہ گروہ سائبر دھوکہ دہی کے کم از کم 3,200 سے زائد مقدمات میں ملوث تھا جن میں 1,700 کیسز آسٹریا اور 1,500 کیسز لٹویا میں رپورٹ ہوئے۔ ان فراڈیوں کے باعث کروڑوں یورو کا مالی نقصان ہوا۔
صرف آسٹریا میں تقریباً 45 لاکھ یورو (EUR 4.5 million) اور لٹویا میں 4 لاکھ 20 ہزار یورو (EUR 420,000) کا نقصان ریکارڈ کیا گیا جس سے اس گروہ کی سرگرمیوں کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی کالز اور پیغامات کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دیا اور ان کے مالیاتی و ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔ یہ گروہ کئی ممالک میں سرگرم تھا اور اس کی جڑیں یورپ کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔
کارروائی کی تفصیل؛
یورو پول، آسٹریا، ایسٹونیا، فن لینڈ اور لاتویا کی پولیس نے مشترکہ کارروائی میں 5 سرورز بند کیے
1,200 سیم باکس ڈیوائسز اور 40,000 ایکٹو سم کارڈز قبضے میں لے لیے
5 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جبکہ مزید 2 افراد کو بھی بعد میں گرفتار کیا گیا
4 مہنگی گاڑیاں اور مشتبہ افراد کے بینک اکاؤنٹس سے 4 لاکھ 31 ہزار یورو جبکہ کرپٹو اکاؤنٹس سے 3 لاکھ 33 ہزار امریکی ڈالر منجمد کیے گئے۔

یورو پول کے مطابق یہ نیٹ ورک انتہائی منظم تھا اور اس میں شامل افراد نے باقاعدہ ویب سائٹس اور پورا نظام ترتیب دیا تھا تاکہ دوسروں کو دھوکہ دینا آسان بنایا جا سکے۔ ابھی بھی مزید گرفتاریاں اور انکشافات متوقع ہیں۔
یہ کارروائی ڈیجیٹل جرائم کے خلاف یورپ میں ایک اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو کس طرح جرائم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس قسم کی دھوکہ دہی اب آن لائن عام ہو چکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








