پاکستان میں سول سروسز سے وابستہ افسران میں خودکشی کے واقعات ایک افسوسناک اور خطرناک رجحان کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
یہ صورتحال سرکاری نظام کے اندر شدید ذہنی دباؤ، سیاسی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات، اور نفسیاتی مسائل پر خاموشی کے کلچر کو بے نقاب کرتی ہے۔
حال ہی میں پولیس سروس آف پاکستان کے ایک انتہائی قابل اور باعزت افسر ایس پی عدیل اکبر نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔ وہ تقریباً 46 برس کے تھے اور اپنے پیچھے ایک کمسن بیٹی سمیت غم زدہ خاندان چھوڑ گئے۔ ان کی موت 23 اکتوبر 2025 کو رپورٹ ہوئی۔
عدیل اکبر اپنی علمی صلاحیت، فرض شناسی اور نرم طبیعت کے لیے مشہور تھے۔ وہ اردو شاعری سے خاص لگاؤ رکھتے تھے اور اکثر سوشل میڈیا پر ایسے اشعار شیئر کرتے جو زندگی کی مشکلات، برداشت اور حوصلے کی عکاسی کرتے تھے۔
ان کے انتقال نے نہ صرف پولیس سروس میں بلکہ عام شہریوں میں بھی شدید غم اور اضطراب پیدا کیا ہے۔ مختلف حلقوں میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ذہنی صحت کے حوالے سے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔
یہ واقعہ کوئی پہلا نہیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی میں متعدد اعلیٰ سول افسران نے اسی طرح اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جن میں سی ایس ایس اور پی ایس پی کے قابل ترین افسران شامل ہیں۔ درج ذیل کچھ نمایاں اور مصدقہ کیسز ہیں جنہوں نے اس سنگین مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا۔
مصدقہ خودکشی کے واقعات (2014، 2025):
نبیحہ نوشیروانی
عہدہ: گریڈ 21، آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس
تاریخ: 13 اکتوبر 2014
مقام: لاہور (آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ہاسٹل)
طریقہ: خودسوزی
تفصیلات: پولیس نے واقعہ کو خودکشی قرار دیا، تاہم اہلِ خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔ تفتیش میں بتایا گیا کہ وہ ٹریننگ کے شدید دباؤ میں تھیں۔

ایس ایس پی جہانزیب خان کاکڑ
عہدہ: ایس پی/ایس ایس پی، جعفرآباد (پی ایس پی/سی ایس ایس)
تاریخ: 16 مئی 2016
مقام: جعفرآباد، بلوچستان (دفتر)
طریقہ: خود پر سرکاری پستول سے فائر
تفصیلات: ابتدائی رپورٹوں میں قتل کا شک ظاہر ہوا، مگر بعد ازاں بلوچستان ہوم ڈپارٹمنٹ نے تحقیقات کے بعد واقعے کو خودکشی قرار دیا۔

ایس ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ
عہدہ: پرنسپل پولیس ٹریننگ اسکول راوت (پی ایس پی/سی ایس ایس)
تاریخ: 13 جنوری 2020
مقام: راولپنڈی (دفتر)
طریقہ: خود پر سروس پستول سے فائر
تفصیلات: پوسٹ مارٹم اور شواہد نے خودکشی کی تصدیق کی۔ نوٹ میں لکھاکہ میری موت پر افسوس نہ کرنا، یہ زندگی کا ایک فیصلہ ہے۔

بلال پاشا
عہدہ: سی ایس ایس افسر، سابق چیف کنٹونمنٹ بورڈ
تاریخ: 27 نومبر 2023
مقام: لاہور
طریقہ: خود فائرنگ
تفصیلات: پولیس نے واقعہ کو خودکشی قرار دیا۔ ساتھی افسران کے مطابق وہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار تھے۔

ایس پی عدیل اکبر
عہدہ: پولیس سروس آف پاکستان (PSP)
تاریخ: 23 اکتوبر 2025
مقام: لاہور
طریقہ: مبینہ خودکشی
تفصیلات: اعلیٰ تعلیم یافتہ، فرض شناس اور حساس طبیعت کے مالک۔ ان کے انتقال کے بعد پورے محکمے میں سوگ کی فضا۔
تجزیاتی پس منظر:
2014 سے 2025 کے درمیان کم از کم پانچ مصدقہ کیسز ایسے ہیں جن میں سی ایس ایس یا پی ایس پی افسران نے اپنی جان خود لی۔ ان تمام واقعات میں مشترک عناصر سامنے آئے۔:
دفتر میں خودکشی
سرکاری اسلحے یا خودسوزی کا استعمال
سیاسی دباؤ، خاندانی مسائل یا انتظامی دباؤ
ذہنی صحت کے حوالے سے خاموشی اور علاج کا فقدان
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف چند رپورٹس ہیں، دراصل بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ معاشرتی بدنامی اور سرکاری ساکھ کے خوف سے انہیں چھپایا جاتا ہے۔

نتیجہ:
پاکستان کے سول سروس نظام میں ذہنی صحت کے حوالے سے سنجیدہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ تمام سرکاری افسران کے لیے سالانہ نفسیاتی جانچ لازمی کی جائے۔
دفاتر میں مینٹل ہیلتھ کونسلرز تعینات ہوں۔
افسران کو ذہنی دباؤ پر گفتگو کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
ایس پی عدیل اکبر اور ان جیسے دیگر افسران کی المناک خودکشیاں صرف ذاتی سانحے نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی خاموش چیخ ہیں جو اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








