کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز بھی مندی کا رجحان برقرار رہاجب کاروبار کے ابتدائی اوقات میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں پانچ سو سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
صبح نو بج کر پینتالیس منٹ تک انڈیکس 164063اعشاریہ 90 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو گزشتہ سیشن کے 164590اعشاریہ 41 پوائنٹس کے مقابلے میں واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی تھی، جب 100 انڈیکس 1962اعشاریہ 87 پوائنٹس گر کر 166553اعشاریہ 28 سے کم ہو کر 164590اعشاریہ 41 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یوں مارکیٹ میں منفی تبدیلی کی شرح 1اعشاریہ 18 فیصد رہی۔
جمعرات کے روز 474 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 147 کے حصص کی قدر میں اضافہ، 291 میں کمی جبکہ 36 کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔
مجموعی کاروباری حجم 1اعشاریہ 50 ارب شیئرز رہا جو بدھ کے 1اعشاریہ 56 ارب شیئرز کے مقابلے میں کم تھا، جبکہ تجارتی مالیت بھی گھٹ کر 49اعشاریہ 52 ارب روپے رہ گئی۔
مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری مالیت 19اعشاریہ 21 کھرب روپے سے گھٹ کر 18اعشاریہ 99 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے ورلڈ کال ٹیلی کام 16 کروڑ 22 لاکھ شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ کے۔الیکٹرک اور ٹیلی کارڈ لمیٹڈ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔
نمایاں طور پر منافع حاصل کرنے والی کمپنیوں میں رافحان مائیز پراڈکٹس کمپنی لمیٹڈ شامل رہی، جس کے شیئر کی قیمت 218 روپے بڑھ کر 9680اعشاریہ 91 روپے تک پہنچ گئی۔
اسی طرح یونی لیور پاکستان فوڈز لمیٹڈ کے حصص میں 188 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کے نرخ 29888اعشاریہ 26 روپے تک جا پہنچے۔
دوسری جانب نمایاں خسارہ اٹھانے والوں میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے بی شیئرز شامل رہے، جن کی قدر 998 روپے گر کر 25000اعشاریہ 10 روپے پر آ گئی۔
سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کے حصص میں بھی 91 روپے کی کمی دیکھی گئی اور یہ 1589اعشاریہ 40 روپے پر بند ہوئے۔
فیوچرز مارکیٹ میں 312 کمپنیوں نے حصہ لیا، جن میں سے 77 کے حصص میں بہتری، 233 میں کمی اور دو کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔
کے الیکٹرک اکتوبر کنٹریکٹ کے تحت 4 کروڑ 35 لاکھ شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ تجارت کرنے والی کمپنی رہی، جبکہ بینک آف پنجاب اور ورلڈ کال ٹیلی کام بھی سرفہرست کمپنیوں میں شامل رہیں۔
یہ مسلسل دوسرا دن ہے جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور دکھائی دیا، جو ملکی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث بڑھتی ہوئی مندی کو ظاہر کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








