بینکاک: تھائی لینڈ کی سابق ملکہ سرکیت، جو موجودہ بادشاہ وجیرا لونگکورن کی والدہ اور ملک کے طویل ترین عہدے پر فائز رہنے والے بادشاہ بومی بول ادولیادج کی اہلیہ تھیں، جمعہ کی رات 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
شاہی محل کے مطابق وہ طویل عرصے سے علیل تھیں اور گزشتہ دنوں خون کے انفیکشن کے باعث حالت مزید بگڑ گئی تھی۔
تھائی معاشرے میں شاہی خاندان کو انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، انہیں تقریباً مقدس درجہ حاصل ہے۔ شاہی شخصیات کی تصاویر ملک بھر کے گھروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر آویزاں کی جاتی ہیں، اور مقامی میڈیا ان کی سرگرمیوں کو عقیدت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ملکہ سرکیت نے اپنے 66 سالہ ازدواجی تعلق کے دوران نہ صرف ایک فیشن آئیکون بلکہ ایک محبت و ہمدردی سے لبریز ماں کے طور پر بھی شہرت حاصل کی۔
مغربی میڈیا نے انہیں امریکہ کی سابق خاتونِ اول جیکی کینیڈی سے تشبیہ دی تھی۔ ان کی موت پر عوامی سطح پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بینکاک کی رہائشی ایک خاتون نے بتایا کہ وہ ملک کی ماں سمجھی جاتی تھیں، ان کے جانے سے ایک عہد ختم ہو گیا ہے۔
شاہی محل کے مطابق ملکہ سرکیت 2019 سے اسپتال میں زیرِ علاج تھیں، جہاں انہیں مختلف امراض لاحق تھے۔
جمعہ کو ان کی حالت مزید بگڑنے کے بعد چولا لونگکورن اسپتال میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے بیٹے بادشاہ وجیرا لونگکورن نے شاہی خاندان اور عوام کے لیے ایک سالہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ملکہ سرکیت کو ان کی شاندار ماضی اور عوامی خدمات کی وجہ سے مدر آف دی نیشن یعنی قوم کی ماں کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی سالگرہ کو ملک بھر میں یومِ ماں کے طور پر منایا جاتا رہا ہے۔
وہ 1960 کی دہائی میں بین الاقوامی سطح پر انتہائی مقبول تھیں اور امریکی صدور، عالمی رہنماؤں اور مشہور شخصیات جیسے ایلوس پریسلے کے ساتھ بھی ملاقاتیں کرتی رہی ہیں۔
بادشاہ بومی بول ادولیادج کے انتقال کے بعدتھائی عوام نے ایک سالہ قومی سوگ منایا تھااور اب ایک بار پھر ملک بھر میں سوگ کا ماحول ہے۔ دارالحکومت بینکاک میں ٹی وی نشریات میں خبری اینکرز سیاہ لباس پہن کر ان کی یاد میں پروگرام پیش کر رہے ہیں۔
ان کی میت کو گرانڈ پیلس کے دوسِت تھرون ہال میں رکھا جائے گا، جہاں عوام ان کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ملکہ سرکیت کی وفات نہ صرف تھائی شاہی خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک عظیم تاریخی نقصان ہے کیونکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ تھائی شناخت اور استحکام کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








