طالبان کے زیر تسلط افغانستان میں اسماعیلی صوفی بزرگ شاہ درویشان کے مزار کو آگ لگا دی گئی۔
واقعہ صوبہ بدخشان کے ضلع زیباک کے خلخان نامی گاؤں میں پیش آیا، جہاں اسماعیلی صوفی “دیوانہ شاہ معروف بہ شاہ درویشان” کے مزار کو آگ لگا دی گئی۔ افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے ذمے دار طالبان ارکان ہیں، تاہم طالبان کی اطلاعات و ثقافت کی وزارت نے اس آتش زنی کو “نامعلوم افراد” سے منسوب کیا ہے۔
بدخشان میں طالبان حکومت کی وزارت اطلاعات و ثقافت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک وفد کو ضلع زیباک بھیج دیا گیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ مزار کی عمارت کا تقریباً 70 فیصد حصہ جل کر تباہ ہو گیا ہے۔
ضلع زیباک کے مقامی ذرائع نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ یہ مزار طالبان کے جنگجوؤں نے نذرِ آتش کیا ہے۔ ان کے مطابق “اس علاقے میں طالبان کے سوا کسی کو اس طرح کی کارروائی کی جرات یا صلاحیت نہیں۔”
طالبان کے مقرر کردہ زیباک کے نائب سربراہ عبدالرحمن کسریٰ نے کہا کہ خفیہ ادارے اس واقعے کے ذمہ داروں کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان پولیس کمان کے حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور اب تک آگ لگانے کی وجوہات و محرکات واضح نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ دیوانہ شاہ کی سوانحِ عمری کے بارے میں عام ذرائع میں تفصیلی معلومات دستیاب نہیں، تاہم زیباک کے مقامی باشندے انہیں پانچویں صدی کے شاعر و فلسفی ناصر خسرو بلخی کے پیروکار کے طور پر احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مقامی باشندوں نے بتایا کہ مزار میں دیوانہ شاہ کے شعری مجموعوں کی کچھ نایاب نقلیں بھی موجود تھیں جو آگ لگنے سے مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








