افغان میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے دوران طالبان قیادت کو اس بات کا شدید خدشہ تھا کہ ان کا اسلحہ کا ذخیرہ جلد ختم ہوجائے گا۔
افغانستان انٹرنیشنل کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق طالبان قیادت میں پاکستان کے ساتھ حالیہ سرحدی جھڑپوں پر شدید اختلافات پائے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ امیرِ طالبان ہبت اللہ اخوندزادہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کو خدشہ تھا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو ان کے بھاری اسلحے کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔ اسی لیے جب قطر اور ترکی نے ثالثی کی پیشکش کی تو طالبان قیادت نے اسے جنگ روکنے کا بہترین موقع قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد طالبان امیر ہبت اللہ نے علماء کو قندھار طلب کر کے مشورہ کیا اور بالآخر وزارتِ دفاع کو یہ اختیار دیا کہ وہ پاکستانی کارروائیوں کا جواب دینے یا نہ دینے کا فیصلہ خود کرے۔ اس کے بعد ملا یعقوب مجاہد، سراج الدین حقانی اور دیگر طالبان رہنماؤں نے کابل میں اجلاس کر کے جوابی حملوں کی منظوری دی، جن میں مبینہ طور پر درجنوں پاکستانی اہلکار مارے گئے۔
اطلاعات کے مطابق جنگ کی براہِ راست قیادت یعقوب مجاہد اور قیوم ذاکر نے کی، جبکہ طالبان امیر اس دوران پس منظر میں رہے اور کسی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت نہیں کی۔ بعد ازاں قطر اور ترکی کی مداخلت سے فریقین میں جنگ بندی پر بات چیت شروع ہوئی، جس کے لیے طالبان کا وفد دوحہ گیا۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے اندر دو موقف سامنے آئے، ایک گروہ مذاکرات کا حامی تھا، جبکہ دوسرا پاکستان کے خلاف سخت ردعمل چاہتا تھا۔ طالبان امیر ہبت اللہ خود محدود دفاعی کارروائیوں کے حق میں تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت اب پاکستان سے براہِ راست محاذ آرائی سے گریز اور مذاکراتی راستہ اختیار کر رہی ہے تاکہ اپنے اندرونی نظم و استحکام کو برقرار رکھ سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








