پاکستان اور ایران نے مل کر نیلگوں معیشت (بلیو ایکانومی) کو فروغ دینے کیلئے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک سڑک، ریل اور سمندری رابطوں کو مضبوط کرکے علاقائی تجارت کو بڑھانے اور عوامی روابط کو فروغ دینے پر کام کریں گے۔
یہ فیصلہ پاکستان کے وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انور چوہدری اور ایران کے وزیر برائے سڑکیں و شہری ترقی فرزانہ صادق کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ دونوں وزراء نے علاقائی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور نقل و حمل کے روابط کو بہتر بنایا جا سکے۔
ملاقات میں سمندری تجارت کو بڑھانے، بندرگاہوں کی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان سمندری، زمینی اور ریل کے ذریعے لاجسٹک رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔
زائرین کے لیے فیری سروس کا منصوبہ
وزیر جنید چوہدری نے پاکستان اور ایران کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کی تجویز دی تاکہ تاجروں اور زائرین کے لیے سستا اور آسان سفری ذریعہ میسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام ایرانی کمپنیوں کا خیرمقدم کریں گے جو اس سروس کو چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں ایندھن کی کم قیمتوں کی وجہ سے فیری کے کرایوں کو کم رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2025 میں تقریباً 60,000 سے 70,000 پاکستانی زائرین ہوائی راستے سے ایران اور عراق گئے، اور فیری سروس شروع ہونے سے یہ تعداد نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگلے سال زائرین کے لیے ایک منظم پالیسی متعارف کرائی جائے گی، جس کے تحت تمام زائرین کو رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کے ذریعے سفر کرنا ہوگا تاکہ حفاظت اور بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر نے کہا کہ مذہبی سیاحت کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر تعاون کی ضرورت ہے۔
ایرانی وزیر کا ردعمل
ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے پاکستان کی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کی بندرگاہیں علاقائی تجارت کے لیے اہم دروازوں کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بندرگاہوں کے درمیان تعاون بڑھانے اور بحیرہ عرب اور خلیج فارس میں تجارتی راستوں کو تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی بندرگاہیں معاشی ترقی کے لیے کلیدی اثاثے ہیں۔ سمندری اور نقل و حمل کے رابطوں کو بہتر بنا کر علاقائی تجارت اور معاشی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
دونوں فریقین نے نیلگوں معیشت کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے سمندری اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








