سابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندیں تقریباً 20 اوورز کے بعد اپنی اصل رفتار کھو دیتی ہیں جس کی وجہ سے گرین پچ پر بھی فاسٹ باؤلرز کے لیے باؤلنگ مشکل ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں راشد لطیف نے کہا کہ اسی وجہ سے حالیہ میچز میں زیادہ سینچریاں اور ففٹیز بنتی جا رہی ہیں جبکہ فاسٹ باؤلرز کی اہمیت کم محسوس ہو رہی ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں جو گیندیں استعمال ہو رہی ہیں وہ بیس اوورز بعد اس کی تیزی ختم ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے گرین پچ پر بھی فاسٹ باؤلرز کو باؤلنگ کرنے میں مشکلات ہو رہی ہیں ہو سکتا ہے شاید اب وہ باؤلرز ہی نا رہے ہوں ، سینچریز کی تعداد زیادہ ہو رہی ہے جیسے کہ کوکابورا Kookaburra سے میچز… pic.twitter.com/KVNCZLR2vt
— Rashid Latif | 🇵🇰 (@iRashidLatif68) October 26, 2025
راشد لطیف نے مزید کہا کہ شاید اب وہ باؤلرز ہی باقی نہ رہیں کیونکہ سینچریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوکابورا سے میچز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بال کی تحقیق کی جائے کیونکہ صرف تین راؤنڈز کے میچز کے بعد ہی 32 سینچریاں اور 88 ففٹیز بن چکی ہیں۔
سابق کپتان نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گیندیں خراب ہیں بلکہ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ کرکٹ سافٹ ویئر کے ذریعے گیند کی سوئینگ، سیم اور بریک کی ٹریکنگ کا ڈیٹا محفوظ کرے تاکہ باؤلنگ اور گیند کے حوالے سے درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔ انہوں نے انگلینڈ کی ڈیوک گیند اور پاکستانی ڈیوک گیند کے رنگ کے فرق کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








