پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان اہم مسودے کی ڈیل! مطالبات کی تفصیل سامنے آ گئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ رائٹرز)

استنبول میں پاک افغان وفود کے درمیان جاری مذاکرات کے دوسرے روز دونوں فریقوں نے ثالثوں کی موجودگی میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق کل پندرہ گھنٹے کی بات چیت کے بعد افغانستان نے پاکستانی وفد کو ایک مسودہ تجویز پیش کی۔ اس مسودے میں افغانستان نے یہ مطالبات رکھے۔

پاکستان افغان فضائی اور زمینی سرحدوں کی کوئی خلاف ورزی نہ کرے۔

پاکستان اپنی سرزمین کو افغانستان کے خلاف مخالف گروہوں کے استعمال سے روکے۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر وحید فقیری نے کہا کہ اگر ترکی میں ہونے والے یہ مذاکرات عمومی معاہدے پر منتج ہوتے ہیں اور دونوں ممالک ڈیورنڈ لائن پر کشیدگی کم کرنے اور دیگر شعبوں میں تعاون پر متفق ہوتے ہیں تو یہ معاہدہ کئی ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق افغانستان کی تجاویز ثالثوں کے ذریعے پاکستانی وفد کو دی گئیں جبکہ پاکستان نے بھی اپنا دوسرا مسودہ طالبان رجیم کو پیش کیا۔ پاکستانی میڈیا نے پاکستان کی تجاویز کو افغان سرزمین سے دراندازی اور منصوبہ بند حملوں کا مقابلہ قرار دیا۔

افغانستان اور بھارتی میڈیا نے روایتی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے دعوے اور مطالبات بے بنیاد ہیں۔ افغانستان کسی کے لیے خطرہ نہیں اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف کوئی منفی ارادے رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ دونوں فریقین نے ایک چار فریقی چینل قائم کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے جو جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کرے گا، خلاف ورزیوں کی رپورٹ کرے گا اور معلومات کے تبادلے میں مدد فراہم کرے گا۔

یہ مذاکرات اس ماہ کے اوائل میں شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد دو طرفہ فوری جنگ بندی کے معاہدے کے بعد شروع کیے گئے ہیں۔

Related Posts