تیرانا: البانیا کے وزیراعظم ایڈی راما نے حال ہی میں ایک دلچسپ مگر علامتی اعلان کیا ہے کہ ملک کی مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ وزیر ڈیئیلا حاملہ ہے۔ بظاہر یہ خبر حیران کن لگتی ہے، مگر دراصل یہ ایک نئے سرکاری مصنوعی ذہانت منصوبے کی علامتی تعبیر ہے۔
ایڈی راما نے یہ اعلان برلن گلوبل ڈائیلاگ 2025 کے دوران کیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ڈیئیلا 83 ڈیجیٹل بچوں کو جنم دے گی، یعنی ایسے ورچوئل اسسٹنٹس جو حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کریں گے۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی ریاست اوہائیو کے قانون سازوں نے ایک نیا بل متعارف کرایا ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کو قانونی حقوق دینے یا انسانوں سے شادی کرنے پر پابندی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اے آئی کی حیثیت اور اختیارات کے حوالے سے بحث تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ڈیئیلا کون ہے؟
ڈیئیلا کا مطلب البانین زبان میں سورج ہے۔ اسے ستمبر 2025 میں دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی وزیر کے طور پر تعینات کیا گیا۔
اس کی بنیادی ذمہ داری سرکاری ٹھیکوں میں شفافیت بڑھانا اور بدعنوانی کو کم کرنا ہے۔ یہ اقدام البانیا کے یورپی یونین میں شمولیت کے معیار پر پورا اترنے کے لیے اٹھایا گیا۔
اس سے قبل جنوری 2025 میں ڈیئیلا کو ای البانیا پلیٹ فارم پر ایک ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جو شہریوں کو سرکاری خدمات تک رسائی میں مدد فراہم کرتی تھی۔
🇦🇱Premierminister Edi Rama präsentiert, wie KI zur praktischen Reformkraft wird.#Diella auf ihrer ersten Auslandsreise und erster Stopp in #Berlin zeigt, wie ein kleines Land global vorangeht und seinen Bürgerinnen&Bürgern besser dient. @AlbanianDiplo #BerlinGlobalDialogue 🇩🇪
— Adia Sakiqi (@adiasakiqi) October 25, 2025
ڈیئیلا کی تعیناتی البانیا کے اندر شدید سیاسی تنازع کا باعث بھی بنی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے ٹیکنالوجی کا تماشہ قرار دیا، جبکہ پارلیمان میں اس کی پہلی تقریر کے دوران کئی ارکان احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ ناقدین کے مطابق ایک مصنوعی وزیر کے فیصلوں کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری اب بھی ایک مبہم سوال ہے۔
ڈیئیلا کے ڈیجیٹل بچے کیا کریں گے؟
البانوی وزیراعظم کے مطابق یہ 83 نئے اے آئی اسسٹنٹس حکمراں جماعت سوشلسٹ پارٹی کے ہر رکنِ پارلیمان کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کام درج ذیل ہوگا:
پارلیمانی اجلاسوں میں شرکت اور کارروائی کا ریکارڈ رکھنا،ارکانِ اسمبلی کو ان مباحث پر آگاہ کرنا جن میں وہ شریک نہ ہو سکے ہوں، پارلیمانی سوالات کے لیے ممکنہ جوابات تجویز کرنا،قانون سازی کے عمل میں ڈیٹا اور تجزیاتی مدد فراہم کرنا شامل ہے۔
ایڈی راما کے بقول یہ ڈیجیٹل معاونین اپنی ماں ڈیئیلا کا علم حاصل کریں گے اور حکومت کے نظم و نسق میں افادیت، شفافیت، اور تیزی پیدا کریں گے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ یہ نظام 2026 کے اختتام تک مکمل طور پر فعال ہو جائے۔
یہ علامتی حمل دراصل مصنوعی ذہانت کی نئی نسل کی تخلیق کی طرف اشارہ ہے، جو مستقبل میں البانیا کے حکومتی نظام کو ڈیجیٹل ماڈل میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








