بلے باز یا پارٹ ٹائم وکٹ کیپر؟ راشد لطیف نے قومی ٹیم کی حقیقت بے نقاب کر دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سابق پاکستانی کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کا المیہ یہ ہے کہ اب وکٹ کیپرز کی جگہ صرف بیٹسمین آ رہے ہیں جو بیک وقت اچھی وکٹ کیپنگ نہیں کر پا رہے، سرفراز اور رضوان کے بعد جو بھی کیپر آئے وہ دراصل بلے باز ہیں جنہیں بس دستانے پہنا دئیے جاتے ہیں اور ان کی بیٹنگ پوزیشن مستقل نہیں ہوتی ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ محمد حارث ایک جارحانہ اوپنر تھا۔ اس کی وجہ سے رضوان، عثمان اور حسیب کو باہر رکھا گیا اور کہا گیا کہ جدید کرکٹ کھیلو۔ حارث نے کوشش کی مگر اس کا نمبر نیچے کر دیا گیا تو وہ بس چلانے والا بلے باز بن کر رہ گیا۔ اب کوچ کہتا ہے کہ اس کا اوسط رن ریٹس 17 ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسے اوسط کی بنیاد پر چنا تھا یا سٹرائیک ریٹ پر؟ پھر اسے چھوڑ کر عثمان کو واپس لے آئے اور صاحبزادہ فرحان کو کیپر بنا دیا حالانکہ صاحبزادہ نے 136 میچوں میں صرف سات بار وکٹ کیپنگ کی ہے۔

معروف وکٹ کیپر نے کہا کہ بسم اللہ خان مسلسل اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے مگر اسے کبھی قومی دھارے میں نہیں لایا گیا۔ بورڈ کو چاہیے کہ بلوچستان، سندھ، ساؤتھ پنجاب اور مالاکنڈ کے کھلاڑیوں پر بھی توجہ دے تاکہ ٹیم پورے پاکستان کی نمائندگی کرے نہ کہ ایک دو علاقوں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سفیان مقیم کا تعلق کشمیر سے ہے انہیں کبھی ٹیم میں لیتے ہیں کبھی باہر کر دیتے ہیں، اسے مکمل موقع ملنا چاہیے۔ خواجہ نافع بھی بلے باز ہے اسے بھی دستانے پہنا دیئے گئے۔ حسیب کو ڈراپ کیوں کیا اور واپس کیوں لایا؟ سعد بیگ اچھا کیپر تھا اس سے دستانے اتار لیے گئے۔ غازی غوری میں صلاحیت ہے اگر اس پر کام کیا جائے تو وہ اچھا وکٹ کیپر، بلے باز بن سکتا ہے مگر مسلسل توجہ چاہیے۔

سابق کرکٹ کپتان نے کہا کہ اگر ایسا ہی رہا تو ایک دن آئے گا جب اسکور شیٹ پر وکٹ کیپر کی جگہ گیند روکنے والا لکھنا پڑے گا۔

Related Posts