بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں آج صبح 28 اکتوبر 2025 کو آسمان پر ایک حیرت انگیز اور رنگین منظر نے شہریوں کو مسحور کر دیا۔ سحر کے وقت آسمان پر دکھائی دینے والا یہ مارپیچ (spiral) شکل کا رنگ برنگا بادل نہ صرف خوبصورت تھا بلکہ اس نے سوشل میڈیا پر بھی گرم بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگ اسے فائر رینبو (Cloud Iridescence) قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے کسی خفیہ میزائل ٹیسٹ کی وجہ سے ہوا۔
🛑 کوئٹہ میں آج صبح آسمان پر حیرت انگیز نظارہ دیکھا گیا..
یہ دلکش “فائر رینبو”🌈 دراصل بادلوں میں بننے والا ایک نایاب منظر ہے جسے Cloud Iridescence کہا جاتا ہے ☁️
کیا آپ نے کبھی یہ نظارہ اپنی زندگی میں دیکھا ہے؟©️ Muddasir Jameel pic.twitter.com/bfPIfJYuZb
— WeatherWalay (@weatherwalay) October 28, 2025
کوئٹہ کے شہریوں نے فجر کی نماز سے پہلے آسمان پر یہ منظر دیکھا جو بادلوں میں رنگین دھندلے دھبوں اور مارپیچ کی شکل میں نظر آیا۔ ایک مقامی رہائشی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ میں کوئٹہ سے ہوں اور آج صبح سحر سے پہلے یہ دیکھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہائپرسونک میزائل کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ اس پوسٹ کو اب تک درجنوں لائکس اور شیئرز مل چکے ہیں۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول ہرنائی میں آسمان پر یہ عجیب منظر دیکھا گیا مقامی ذرائع کے مطابق پانچ بج کر بیس منٹ پر آسمان پر اس طرح کی لکیریں نمودار ہو چکی تھیں جیسے کوئی چیز پرواز کر کے گزر گئی ہو پاکستان نے کوئی اہم میزائل تجربہ کیا ہے اگلے چند گھنٹوں میں اعلان متوقع ۔۔۔!!! pic.twitter.com/jvv4CgL4jh
— Hamza Haider (@itxhamza480) October 28, 2025
کیا ہے یہ منظر؟ فطری یا فوجی سرگرمی؟
ماہرین کے مطابق یہ منظر “Cloud Iridescence” یا فائر رینبو کہلاتا ہے جو بادلوں میں پانی کے چھوٹے قطروں یا برف کے کرسٹلز کی وجہ سے سورج کی روشنی کے منتشر ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک نایاب فطری واقعہ ہے جو صرف مخصوص موسم اور سورج کی پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے جیسے کہ سحر یا شام کے وقت۔ اسے آسمان پر رنگ برنگا آرک یا مارپیچ نظر آنا عام ہے، اور یہ بارش والے رینبو سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اس میں آرک کی بجائے دھندلا رنگین اثر ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک اور رائے یہ ہے کہ یہ میزائل یا راکٹ لانچ کی وجہ سے exhaust plume (دھوئیں کی پٹی) اور spiral tracks ہو سکتا ہے۔
ایک صارف پاکستان وینگارڈ نے لکھاکہ یہ چمکدار مڑتے ہوئے بادل بالسٹک میزائل لانچ کی نشانی ہیں نہ کہ مختصر رینج کے سسٹم۔ رنگین چمک exhaust کے اوپری سٹریٹوسفیئر پہنچنے سے ہوتی ہے جبکہ مارپیچ کی شکل اسٹیج الگ ہونے کی وجہ سے۔ غالباً شاہین II/III یا ابابیل ٹیسٹ۔”
JUST IN – A stunning “fire rainbow” illuminated the sky over Quetta, Pakistan — a rare cloud iridescence caused when sunlight diffracts through tiny water droplets or ice crystals.
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) October 28, 2025
ایک اور پوسٹ میں اوسینٹ ٹی وی نے ہرنائی، بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صبح 5 بجے آسمان میں چمکدار پٹی دیکھی گئی، جو میزائل ٹریل لگتی ہے مگر عسکری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔ مقامی لوگوں میں کچھ نے اسے رینبو جیسا بادل کہا تو کچھ نے میزائل سرگرمی کا شبہ ظاہر کیا۔
اے آئی کا کیا کہنا ہے؟
اس منظر کی تصاویر شیئر کرنے والوں نے مصنوعی ذہانت (AI) سے بھی پوچھا۔ AI کا جواب تھا: یہ تصویر پاکستان میں میزائل ٹیسٹ کی وجہ سے آسمان میں نظر آنے والے exhaust plumes اور spiral tracks کی طرح لگتی ہے۔
گروک نے بتایا کہ کچھ رپورٹس کے مطابق یہ بلوچستان کے قریب ہائپرسونک میزائل ٹیسٹ ہو سکتا ہے لیکن سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ رینبو نہیں ہے۔ رینبو بارش اور سورج کی روشنی سے آرک کی شکل میں بنتا ہے جبکہ یہ spiral trail میزائل یا راکٹ کے exhaust سے لگتا ہے جو رنگین روشنیاں پیدا کر سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ پاکستان کے حالیہ میزائل ٹیسٹ سے ہو سکتا ہے جیسے ابدالی۔
حالیہ فوجی سرگرمیاں
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں کئی میزائل ٹیسٹ کیے ہیں جن میں 30 ستمبر 2025 کو فتح-4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ شامل ہے جو 750 کلومیٹر رینج کا ہے۔ اس سے پہلے جولائی 2025 میں شاہین-III ٹیسٹ ناکام ہوا تھا جس کی وجہ سے بلوچستان میں دھماکے اور ملبے گرنے کی رپورٹس آئیں تاہم آج کے اس منظر کی فوری طور پر کوئی سرکاری تصدیق نہیں ملی۔
ایک بھارتی صارف نے اسے پاکستانی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ circumhorizontal arc ہے جو سورج کی 58 ڈگری اونچائی پر cirrus clouds میں بنتا ہے اور میزائل سے کوئی تعلق نہیں۔
شہریوں کا ردعمل: حیرت اور دلچسپی
کوئٹہ اور ہرنائی کے رہائشیوں نے ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ منظر جنت کا دروازہ یا الائن آسٹریلاس جیسا لگ رہا تھا۔ ایک پوسٹ میں پارھلو نے لکھاکہ کوئٹہ کے آسمان پر مسحور کن آروڑا جیسی جھلک فائر رینبو نے رنگوں کا جادو جگایا جبکہ دوسرے صارف نے اسے ہائی الٹی ٹیوڈ exhaust clouds” کہاکہ جو راکٹ لانچ کے دوران 80-100 کلومیٹر اونچائی پر بنتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں فطری اور فوجی وجوہات دونوں ممکن ہیں لیکن تصدیق کے بغیر قیاس آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر یہ میزائل ٹیسٹ ثابت ہوا تو یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی مزید نشاندہی کرے گا جبکہ فطری ہونے پر یہ بلوچستان کی خوبصورتی کا ایک اور نایاب لمحہ بن جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








