مودی سرکار مسلم شناخت مٹانے میں مصروف! مصطفیٰ آباد کا نام کبیر دھام رکھنے کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ لکھیم پور کھیری ضلع کے گاؤں مصطفیٰ آباد کا نام بدل کر کبیر دھام رکھا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پندرہویں صدی کے مشہور سنت اور شاعر کبیر داس کے احترام میں کیا گیا ہے تاکہ قبل از نوآبادیاتی ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جا سکے۔

یہ اقدام ریاست میں گزشتہ چند سالوں میں ہونے والی دیگر نام تبدیلیوں جیسے فیض آباد کا ایودھیا اور الہ آباد کا پریاگ راج کا حصہ ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی حکمران جماعت مذہبی پسندی کو فروغ دے رہی ہے اور مسلم شناخت والے مقامات کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ آباد گاؤں میں اب کوئی مسلم آبادی نہیں ہے لیکن نام کی تبدیلی سے مسلمانوں کی تاریخی اور ثقافتی شناخت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

حزب اختلاف خاص طور پر سماجوادی پارٹی حکومت کے اس فیصلے پر برہم ہے اور کہتی ہے کہ حکومت عوامی مسائل جیسے بے روزگاری، خواتین کی حفاظت اور بنیادی سہولتوں پر توجہ دینے کی بجائے مذہبی پسندی اور نام بدلنے کے عمل میں الجھی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہیں۔

Related Posts