مودی سرکار میں اسلاموفوبیا عروج پر، نماز جیسے یوگا آسن کا بہانہ بنا کر مسلمان ٹیچر معطل

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو غیر ملکی میڈیا

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک مسلمان ٹیچر کو اس وقت معطل کر دیا گیا جب یہ الزامات سامنے آئے کہ انہوں نے ہندو طلبہ سے ایسے یوگا آسن کروائے جو اسلامی نماز سے مشابہ تھے۔

اطلاعات کے مطابق جبور احمد تادوی نامی استاد پر کچھ والدین اور مقامی باشندوں نے الزام لگایا کہ وہ جسمانی تعلیم کی سرگرمیوں کے دوران سوریہ نمسکار اور یوگا کے بہانے “نماز جیسے آسن” سکھا رہے تھے۔

ہندو جاگرن منچ کے ارکان نے اس واقعے پر احتجاج کیا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انکوائری شروع کی۔

استاد نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ “ششانک آسن” کر رہے تھے، جو ایک تسلیم شدہ یوگا پوزیشن ہے اور شاید کسی نے اسے نماز کا انداز سمجھ لیا۔

ضلعی تعلیم افسر نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک استاد معطل رہیں گے۔

Related Posts