کراچی میں ای چالان سسٹم کے دوسرے روز بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں جاری رہیں تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس صرف چالان کرنے میں مصروف ہیں جبکہ شہر کی سڑکوں کی خستہ حالت پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
ٹریفک پولیس کی جاری کردہ 24 گھنٹے کی رپورٹ کے مطابق شہر بھر میں 4 ہزار 301 شہریوں کو مختلف خلاف ورزیوں پر چالان کیا گیا۔ سب سے زیادہ چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر کیے گئے جن کی تعداد 2 ہزار 290 بتائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 845 شہریوں کو تیز رفتاری، 655 کو بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے، 306 کو لال سگنل توڑنے اور 162 کو موبائل فون کے استعمال پر چالان کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی پارکنگ پر 15، رانگ وے پر آنے پر 16، اوور لوڈنگ پر 4، اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی پر 6، رانگ وے آنے پر 33 اور کالے شیشوں پر 30 چالان کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق یہ دوسرا دن تھا جب ای چالان سسٹم مکمل 24 گھنٹے فعال رہا۔ حکام نے کہا کہ سسٹم کا مقصد صرف چالان کرنا نہیں بلکہ شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری پیدا کرنا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام شہری اپنے لائسنس اپڈیٹ رکھیں کیونکہ اب کسی کو بھی خلاف ورزی پر چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ مزید کہا گیا کہ شہر بھر میں تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں کے لیے رفتار کی حد 60 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے اور اس سے تجاوز کرنے پر چالان جاری کیا جائے گا۔
دوسری جانب شہریوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ حکومت سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک سگنلز کے نظام کو بہتر بنائے تو حادثات خودبخود کم ہو جائیں گے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چالانوں کے ذریعے لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں مگر شہر کی خستہ سڑکیں، کھلے مین ہولز اور ٹوٹی لائٹس کسی کو نظر نہیں آتیں۔
شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور ٹریفک حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جرمانے بڑھانے کے بجائے شہر کے بنیادی ڈھانچے اور ٹریفک نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے تاکہ قانون پر عملدرآمد کے ساتھ شہریوں کی حفاظت بھی یقینی بنائی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








