پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان کی طالبان حکومت نے اشتعال انگیزی جاری رکھی تو پاکستان کو اسے مٹانے کے لیے اپنے مکمل ہتھیاروں کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عسکری طاقت فیصلہ کن ہے، اور اس کا ضبط کمزوری نہیں بلکہ امن کی خواہش ہے۔
استنبول میں چار روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے ناکام اختتام کے بعد، خواجہ آصف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان ان مذاکرات میں برادر ممالک کی درخواست پر شامل ہوا تاکہ امن کے امکانات برقرار رہیں۔
ان کے مطابق افغان حکام نے زہریلے بیانات دے کر اپنی منقسم اور بدنیت ذہنیت کا ثبوت دیا۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مکمل اسلحہ خانے کے ایک حصے کی بھی ضرورت نہیں، طالبان حکومت کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے اتنا ہی کافی ہوگا۔
انہوں نے طالبان کو ماضی کی عبرتناک شکستوں کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اگر تصادم دوبارہ شروع ہوا تو تورابورا کی تاریخ دہرانا ایک ناقابلِ فراموش منظر ہوگا۔
While on the request of brotherly countries who were persistently being beseeched by Taliban Regime, Pakistan indulged in talks to give peace a chance, venomous statements by certain Afghan officials clearly reflect the devious and splintered mindset of Taliban regime.
Let me…— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 29, 2025
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ طالبان حکومت ایک جنگی معیشت کے سہارے قائم ہے اور وہ اندھا دھند انداز میں افغانستان کو ایک اور تباہ کن تنازع کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ان کے بقول پاکستان کے صبر کی انتہا ہو چکی ہے اور جو کوئی بھی ہمارے عزم یا صلاحیتوں کا امتحان لے گا وہ اپنے انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے اندر کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا خودکش حملے کا سخت اور فوری جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ اکتوبر 2025 میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات، جو قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں منعقد ہوئے، کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ عمل شواہد پیش کیے، لیکن افغان وفد نے عملی یقین دہانیاں دینے سے گریز کیا۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ میزبان ممالک سمیت تمام شرکاء نے ان شواہد کو تسلیم کیا، تاہم کابل نے محض الزامات اور بہانوں کا سہارا لے کر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔
پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی صورت پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
پاکستان کی جانب سے خاص طور پر ان تنظیموں کا ذکر کیا گیا جنہیں اسلام آباد بھارت کے حمایت یافتہ گروہ قرار دیتا ہے، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان شامل ہیں۔
استنبول مذاکرات کا بنیادی مقصد افغان سرزمین سے ان گروہوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ تھا، مگر افغان وفد اس پر کوئی واضح یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








