کراچی کے عوام کیلئے بڑی خوشخبری! جانتے ہیں کونسے روٹ پر نئی الیکٹرک بسیں چلنے والی ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Govt Announces New Electric Bus Route in Karachi
ONLINE

سندھ کے وزیرِ اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ کراچی میں الیکٹرک بس کا نیا روٹ شروع کیا جا رہا ہے جو گلشن معمار سے ٹاور تک سفر کرے گا۔

اس منصوبے کے تحت 15 نئی برقی بسیں اس روٹ پر چلائی جائیں گی جو شہریوں کے لیے ماحولیاتی طور پر محفوظ اور جدید سفری سہولت فراہم کریں گی۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ نے منگل کے روز محکمۂ ٹرانسپورٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سندھ حکومت کی شہری نقل و حمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نئی سروس کراچی کے شمالی اور وسطی علاقوں کے ہزاروں مسافروں کے روزمرہ سفر کو آسان بنائے گی، اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے ہماری سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

اجلاس میں وزیر کویلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے ایک اہم حصے، تاج حیدر برج کی تکمیل کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، جو جلد عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت صوبے بھر میں برقی سفری نظام کے فروغ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس میں مزید برقی بسوں کی شمولیت اور پہلی برقی ٹیکسی سروس کا آغاز دسمبر 2025 میں کیا جائے گا۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے پیپلز بس سروس کو صوبے کے تین مزید اضلاع خیرپور، شکارپور اور نوشہرو فیروز تک توسیع دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ان علاقوں میں عوام کو قابلِ اعتماد، سستی اور آسان سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔

یہ اعلان وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جہاں جاری اور آئندہ ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق اس توسیعی مرحلے میں مزید 20 نئی بسیں شامل کی جائیں گی تاکہ عوامی رابطے کو بہتر بنایا جا سکے۔

وزیر نے بتایا کہ صوبائی حکومت ڈبل ڈیکر اور برقی بسوں کے ساتھ ساتھ سندھ کی تاریخ کی پہلی برقی ٹیکسی سروس بھی شروع کرنے جا رہی ہے جو دسمبر سے کراچی میں آزمائشی طور پر چلائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت جدید، ماحول دوست اور عوامی سہولت پر مبنی سفری نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے، تاکہ شہریوں کو محفوظ، آرام دہ اور وقت کی بچت والی ٹرانسپورٹ فراہم کی جا سکے۔

Related Posts