تعلیمی اداروں میں چل کیا رہا ہے! کراچی کی وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہراسانی کے مرتکب قرار

تازہ ترین

تازہ ترین

Federal Urdu University VC Reportedly Found Guilty of Harassment
ONLINE

وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین و مردان کو ہراسانی سے بچاؤ نے وفاقی اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کو دورانِ ملازمت خواتین کے خلاف توہین آمیز اور صنفی تعصب پر مبنی ریمارکس دینے کا مرتکب قرار دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک تفصیلی انکوائری کے بعد سامنے آیا جس میں ان کے متعدد بیانات کو ہراسانی اور صنفی امتیاز کے زمرے میں قرار دیا گیا۔

فیصلے کے مطابق ضابطہ خان شنواری پر تحفظِ خواتین برائے ہراسانی ایکٹ 2010 کے تحت تنبیہ کی سزا عائد کی گئی ہے۔

یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان کے طرزِ عمل پر کڑی نظر رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے ضابطہ خان شنواری کے بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ریمارکس انتہائی متعصبانہ، توہین آمیز اور صنفی طور پر توہین دہ ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس نوعیت کے خیالات کام کی جگہ پر خواتین کے لیے خوف، ناپسندیدگی اور امتیاز کا ماحول پیدا کرتے ہیں، جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر شنواری نے کہا تھا کہ ’جب خواتین تقریباً 35 برس کی عمر کو پہنچتی ہیں تو انہیں ہارمونیائی مسائل کا سامنا ہوتا ہے جس سے ان کی ذہنی حالت غیر متوازن ہو جاتی ہے اور وہ دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات معاشرتی تعصب اور صنفی امتیاز کی عکاسی کرتے ہیں اور کسی تعلیمی ادارے کے سربراہ کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔

فوزیہ وقار نے اپنے حکم میں کہا کہ جامعات کے رہنماؤں پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنفی حساسیت کو فروغ دیں کیونکہ ان کے الفاظ اور رویے تعلیمی ماحول کی تشکیل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ لاعلمی یا سماجی جاہلیت کسی بھی عہدے دار کو ایسے بیانات دینے کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔

محتسب کے فیصلے میں اس کیس کو صرف ایک انفرادی معاملہ نہیں بلکہ جامعات میں پائی جانے والی صنفی تعصب کی عمومی فضا سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے۔

اس ضمن میں حکم دیا گیا کہ یونیورسٹی فوری طور پر ایک مستقل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے، ضابطۂ اخلاق کو نمایاں مقامات پر آویزاں کرے اور عملے و طلبہ کے لیے باقاعدہ آگاہی و تربیتی ورکشاپس منعقد کرے۔

یہ فیصلہ واضح پیغام دیتا ہے کہ طاقت کے عہدوں پر فائز افراد کے جانب دارانہ اور توہین آمیز بیانات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور تعلیمی اداروں پر لازم ہے کہ وہ ہر فرد کے لیے محفوظ، باعزت اور مساوی ماحول کو یقینی بنائیں۔

Related Posts