بالی وُڈ اداکار عمران ہاشمی نے اپنی آنے والی فلم حق کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع پر وضاحت دیتے ہوئے خود کو ایک لبرل مسلمان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فلم کسی طور پر مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ خواتین کے حقوق اور ان کی عزت و وقار کے بارے میں ہے۔
متنازعہ فلم حق جو 7 نومبر 2025 کو ریلیز کی جائے گی جو مشہور شاہ بانو کیس سے متاثر ایک لیگل ڈرامہ ہے۔ اس فلم میں عمران ہاشمی کے ساتھ اداکارہ یامی گوتم بھی مرکزی کردار میں نظر آئیں گی۔ یہ کہانی 1985 میں بھارتی سپریم کورٹ کے اُس تاریخی فیصلے پر مبنی ہے جس میں ایک طلاق یافتہ مسلم خاتون کو نان نفقے کے حق کے لیے انصاف فراہم کیا گیا تھا۔
فلم کی تشہیری مہم کی تقریب کے دوران عمران ہاشمی نے کہا کہ بطور مسلمان انہوں نے اس کہانی کو بڑی حساسیت اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں کسی مذہب یا کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ یہ خواتین کے حقوق، برابری اور عزت نفس پر مبنی پیغام دیتی ہے۔
اداکار نے مزید کہا کہ اگر اس فلم کا مقصد کسی کو بدنام کرنا ہوتا تو میں کبھی اس میں کام نہ کرتا۔ یہ فلم عورت کے وقار اور حق کے بارے میں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کا پیغام بہت متوازن ہے۔
عمران ہاشمی نے اپنی ذاتی زندگی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیوی ہندو ہیں اور ان کا بیٹا ہندو اور مسلم دونوں روایات پر عمل کرتا ہے جس سے انہیں ایک سیکولر نظریہ کے ساتھ دنیا کو دیکھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ فلم دیکھیں کیونکہ وہ اس کے پیغام سے ایک نئے اور مثبت انداز میں جڑ سکیں گے تاہم فلم کی ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔
شاہ بانو بیگم کی بیٹی صدیقہ بیگم نے فلم سازوں کو قانونی نوٹس بھیجا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلم میں ان کی والدہ کی کہانی بغیر اجازت استعمال کی گئی ہے اس لیے فلم کی ریلیز کو روکا جائے۔
فلم حق کو پہلے ہی بھارتی میڈیا میں سوشل، مذہبی اور خواتین کے حقوق کے تناظر میں ایک اہم اور ممکنہ طور پر متنازع فلم قرار دیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ معروف بالی وڈ اداکار عمران ہاشمی قران حافظ بھی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








