بھوجپوری فلم اور موسیقی کی دنیا میں حالیہ برسوں کے دوران ایسا رجحان تیزی سے بڑھا ہے جس نے نہ صرف فن کے معیار پر سوال اٹھائے ہیں بلکہ سماجی اقدار اور ثقافتی روایات کے حوالے سے بھی شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
مقامی زبان میں تیار ہونے والے یہ گانے اور ویڈیوز یوٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں، بلکہ کروڑوں ویوز حاصل کر رہے ہیں مگر ان کے مندرجات پر اخلاقی اور ثقافتی حلقے شدید تنقید کر رہے ہیں۔
بھوجپوری گانوں میں عموماً ایسے مناظر اور بول شامل کیے جاتے ہیں جو سماجی اقدار سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔ ان گانوں میں بعض اوقات رومانی مناظر کو اس انداز میں دکھایا جاتا ہے کہ وہ حدود سے تجاوز کرتے محسوس ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کئی معروف گلوکاروں اور اداکاروں کو حالیہ عرصے میں تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ناظرین کی ایک بڑی تعداد ان گانوں کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہے۔
ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مواد کا تیزی سے وائرل ہونا دراصل ناظرین کے بدلتے ہوئے رجحانات اور ڈیجیٹل میڈیا کے بے لگام استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر مواد کی مقبولیت اکثر معیار سے زیادہ سنسنی اور متنازعہ مناظر پر منحصر ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف نوجوان نسل کے فکری و اخلاقی رویوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ مقامی فلمی صنعت کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے۔
دوسری جانب بھوجپوری انڈسٹری کے بعض فنکاروں کا مؤقف ہے کہ ان کے گانے یا ویڈیوز عوامی پسند کے مطابق بنائے جاتے ہیں اور اگر ان میں دل کشی یا جذباتی رنگ ہے تو اسے فحاشی نہیں سمجھنا چاہیے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فن اور فحاشی کے درمیان باریک فرق کو نظر انداز کرنا اس ثقافتی صنعت کے زوال کا سبب بن سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی سینسر بورڈز، ثقافتی ادارے اور آن لائن پلیٹ فارمز اس حوالے سے مؤثر پالیسی بنائیں تاکہ فنی آزادی برقرار رہتے ہوئے اخلاقی حدود کا خیال رکھا جا سکے۔
اگر اس پہلو پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو بھوجپوری موسیقی، جو کبھی عوامی جذبات اور علاقائی ثقافت کی آئینہ دار سمجھی جاتی تھی، رفتہ رفتہ سستی شہرت کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








