پاکستان میں روس کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پاکستان کو دھمکی دی ہے، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے سلسلے میں۔ تاہم روسی سفارت خانے نے واضح کیا کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کلپ 23 اکتوبر 2025 کو روسی جغرافیائی سوسائٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس کے بعد صدر پوتن کی عام گفتگو کا حصہ تھا۔ اصل ویڈیو میں صدر پوتن نے نہ پاکستان کا ذکر کیا اور نہ ہی افغانستان کا، بلکہ وہ مختلف عمومی سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔
آج کل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ دراصل یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کلپ 23 اکتوبر 2025 کو روسی جغرافیائی… pic.twitter.com/2eH1O3t9tp
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) October 30, 2025
روس کا موقف ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کو سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل کیا جائے۔ روس چاہتا ہے کہ دونوں ممالک تعمیری بات چیت جاری رکھیں اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کے ساتھ علاقائی سلامتی کو مضبوط کریں۔
اس ویڈیو کو صحافی ظفر نقوی نے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پوتن نے پاکستان اور پاک فوج کو براہ راست دھمکی دی ہے اور کہا کہ افغانستان پر حملے کی صورت میں جواب صرف کابل سے نہیں آئے گا۔
روسی صدر پیوتن کی پاکستان اور پاک فوج کو کھلی اور براہ راست دھمکی، اب اگر افغانستان پر حملہ کیا تو جواب صرف کابل سے نہیں ملے گا، ماضی قریب میں تو ہمیں اتنے سنگین نتائج کی دھمکی کسی نے نہیں دی، پاکستان کیلئے بہت نازک اور خطرناک صورتحال ہے، یہ صرف روس کا موقف نہیں چین کا بھی یہی… pic.twitter.com/fWB0VhGNvo
— Zafar Naqvi (@ZafarNaqviZN) October 29, 2025
پاکستان میں روسی سفارت خانے نے ان کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی بیان صدر پوتن کی طرف سے نہیں دیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








