سعودی عرب نے عمرہ زائرین کے لیے نئی ویزہ پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت زائرین کیلئے ویزہ جاری ہونے کے ایک ماہ کے اندر مملکت میں داخل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اگر مقررہ مدت میں داخلہ نہ کیا گیا تو ویزہ خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ نئی پالیسی آئندہ ہفتے سے نافذ العمل ہونے کا امکان ہے، جس کے باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
نئی ویزہ پالیسی کے تحت عمرہ زائرین کے لیے داخلے کی مدت تین ماہ سے کم کر کے ایک ماہ کر دی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد عمرہ ویزہ کے طریقہ کار کو مزید منظم بنانا، اور زائرین کی آمد و روانگی کے نظام کو بہتر اور مؤثر بنانا ہے، خاص طور پر اُن دنوں میں جب زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس سے قبل زائرین کو ویزہ حاصل کرنے کے بعد تین ماہ کے اندر سعودی عرب پہنچنے کی سہولت حاصل تھی، جس سے ان کے لیے سفر کی منصوبہ بندی میں آسانی رہتی تھی۔
اب نئی پالیسی کے تحت مقررہ ایک ماہ کی مدت میں داخلہ نہ کرنے والے زائرین کا ویزہ خودکار نظام کے تحت منسوخ کر دیا جائے گا۔
عمرہ ویزہ کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مملکت میں قیام کی مدت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
زائرین بدستور سعودی عرب میں داخلے کے بعد تین ماہ تک قیام کر سکیں گے تاکہ وہ اطمینان سے اپنے عمرہ کے مناسک ادا کر سکیں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کی زیارت کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے ابھی تک نئی پالیسی کے باضابطہ نفاذ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس پر عمل درآمد آئندہ ہفتے سے شروع ہو جائے گا۔
اس پالیسی کو سعودی حکومت کی اُس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








