ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح پانچ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے تاہم عوام کو اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے اب بھی کوئی ریلیف نہیں مل سکا۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ مجموعی شرحِ مہنگائی میں استحکام نظر آ رہا ہے مگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ عوام کی قوتِ خرید پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
معروف ماہرِ معیشت مزمل اسلم کے مطابق اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 5 فیصد ہے مگر عام شہری کے لیے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی قیمت میں 31 فیصد، پیاز میں 20 فیصد، آٹے میں 19 فیصد، گائے کے گوشت میں 13 فیصد اور گھی میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مزمل اسلم نے مزید بتایا کہ لہسن کی قیمت میں 30 فیصد، چنے میں 30 فیصد، آلو میں 20 فیصد، اور مرغی میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ بجلی کے نرخوں میں 26 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
ان کے مطابق موجودہ معاشی اشاریے مخلوط تصویر پیش کر رہے ہیں جس سے عام شہریوں میں یہ ابہام پیدا ہو رہا ہے کہ آیا ان کی قوتِ خرید میں بہتری آئی ہے یا مزید کمی واقع ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے نجات دلائیں۔ بالخصوص خوراک، بجلی اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مربوط پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔
عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیشِ نظر ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ حکومت اشیائے خورونوش کی سپلائی چین کو بہتر بنائے، ذخیرہ اندوزی پر قابو پائے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے مراعاتی اقدامات کرے تاکہ مہنگائی پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








