پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال اب محض تفریح یا معلومات تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سنگین اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مختلف پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، لائیکی، انسٹاگرام اور یوٹیوب شارٹس پر کھلے عام فحاشی، بے حیائی اور غیر اخلاقی حرکات کو نہ صرف برداشت کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں لائیو شوز کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔
یہ رجحان اب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اس نے تفریح کو ایک باقاعدہ غیر اخلاقی کاروبار میں بدل دیا ہے، جس میں گفٹس، کوائنز اور ڈالرز کے بدلے فحش مواد نشر کیا جا رہا ہے۔
اس رجحان میں سب سے نمایاں نام سنبل ملک، صوفی گجراتن، صبا شاہ اور جیا راجپوت جیسے افراد کے ہیں، جو لائیو شوز میں غیر اخلاقی حرکات اور گفتگو کے ذریعے اپنی شہرت اور مالی فائدے کو بڑھا رہی ہیں۔
ان کے ساتھ ساتھ مرد بھی اسی دوڑ میں شامل ہیں، جن میں ڈاکٹر ایمان، تنظیم ہنجرہ، بلی شلی، شکیل مہر، سنزیلہ خان، عائزہ خان، نمرہ، سارا، ملنگ، سینوریٹا، شیبا، علی بھائی، مومی، ماہ نور، وسیم اور حیدر شاہ جیسے نام شامل ہیں۔ ان سب نے اپنی مقبولیت اور کمائی کے لیے اخلاقی حدود کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
یہ ویڈیوز اور لائیو سیشنز نوجوان نسل کے لیے نہ صرف ذہنی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ خاندانی نظام اور سماجی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ صورتحال صرف ایک سماجی خرابی نہیں بلکہ ایک منظم اخلاقی زوال ہے۔ معاشرتی ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر اس فحاشی کے سیلاب کو نہ روکا گیا تو پاکستانی معاشرہ ایک ایسی دلدل میں دھنس جائے گا جہاں سے نکلنا تقریباً ناممکن ہوگا۔
ضروری ہے کہ حکومت، والدین اور تعلیمی ادارے مل کر ایک مضبوط حکمتِ عملی تیار کریں، جس میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سخت قانونی اقدامات، اخلاقی تربیت، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی کے نظام کو لازمی بنایا جائے۔
اسی پس منظر میں پنجاب اسمبلی میں سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر مستقل پابندی کے لیے ایک قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ یہ قرارداد اپوزیشن رکن فرخ جاوید کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ٹک ٹاک پر فحاشی، عریانی اور بے حیائی کا کاروبار تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اس کا لائیو چیٹ فیچر نوجوانوں کو غیر اخلاقی رجحان کی طرف مائل کر رہا ہے اور کم عمر بچے بھی اس کے اثر میں آ رہے ہیں۔
قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ ٹک ٹاک نوجوان نسل کو سستی شہرت اور آسان پیسے کے لالچ میں اخلاقی انحطاط کی جانب دھکیل رہا ہے، جو اسلامی اقدار کے صریح خلاف ہے۔ اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر اس ایپ اور اس کے لائیو چیٹ فیچر پر مکمل اور مستقل پابندی عائد کرے، تاکہ آنے والی نسلوں کو اخلاقی تباہی سے بچایا جا سکے۔
عوام کی جانب سے بھی ریاستی اداروں، خاص طور پر ایف آئی اے، پی ٹی اے، اور سائبر کرائم ونگ سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں جو سوشل میڈیا کو گندگی اور بے حیائی پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بعض شہریوں نے سی سی ڈی سے بھی ایسے سماج دشمن عناصر کیخلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








