پاکستان کے قرضے اور جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2025 میں بڑھ کر 74.5 فیصد ہو گیا ہے جوکہ گزشتہ سال جون 2024 میں 70.9 فیصد تھا۔ ایک سال میں 3.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالیاتی امور کی وزارت کا کہنا ہے کہ موجودہ سال میں اسے تقریباً 70 فیصد تک لانے کی کوشش کی جائے گی اور مالی سال 2028 تک یہ 63.3 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق قرضے میں اضافہ بنیادی طور پر روپے کی قدر میں کمی، بڑھتی ہوئی سود کی شرح اور مہنگائی میں کمی کی وجہ سے ہوا تاہم ملک کی معاشی ترقی اور بجٹ میں معمولی اضافے نے کچھ حد تک اس بڑھوتری کو کم کیا۔
ملکی قرضہ (Domestic Debt) کا تناسب جی ڈی پی کے مقابلے میں 46.2 فیصد سے بڑھ کر 49.8 فیصد ہو گیا، جبکہ بیرونی قرضہ (External Debt) نسبتا مستحکم رہا۔ مجموعی طور پر، جون 2025 تک پاکستان کا عوامی اور سرکاری ضمانت والے قرضے 8,4790 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ پچھلے سال یہ 7,4620 ارب روپے تھے۔
سرکاری قرضہ خود جی ڈی پی کا 70.8 فیصد بن گیا ہے اور حکومت کا منصوبہ ہے کہ مالی سال 2028 تک یہ 60.8 فیصد تک کم ہو جائے۔ اس کے علاوہ، سرکاری ضمانت والے قرضے جی ڈی پی کے 3.8 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد تک آنے کا امکان ہے۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ اگر معیشت کا محتاط انتظام اور مالی نظم برقرار رہے تو عوامی اور سرکاری ضمانت والے قرضے درمیانی مدت میں قابل برداشت رہیں گے۔ قرضے میں حالیہ اضافہ زیادہ تر داخلی وسائل سے حاصل کردہ رقم کی وجہ سے ہوا جبکہ بیرونی قرضے زیادہ تر مستحکم رہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








