ایف بی آر کا ہدف کیسے رہ گیا ادھورا؟ اعداد و شمار نے سب کو حیران کر دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

FBR to challenge Islamic council ruling on withholding tax
FILE PHOTO

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے چار مہینوں (جولائی تا اکتوبر) میں اپنے ریونیو کے ہدف سے تقریباً 270 ارب روپے کم آمدنی حاصل کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے اس دوران 3.84 کھرب روپے ٹیکس اکٹھا کیے جبکہ مقررہ ہدف 4.109 کھرب روپے تھا۔ ہدف حاصل نہ ہونے کی بنیادی وجہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور مستحکم ریونیو حاصل کرنے میں موجود چیلنجز بتائی گئی ہیں خاص طور پر موجودہ اقتصادی غیر یقینی صورتحال میں۔

ذرائع کے مطابق جولائی تا اکتوبر کے دوران تقریباً 205 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے جس نے نیٹ مجموعی اکٹھا کیے گئے ریونیو پر بھی اثر ڈالا۔ اگرچہ ریفنڈز معمول کا حصہ ہیں لیکن یہ وقتی طور پر اعداد و شمار میں کمی دکھا دیتے ہیں۔

اکتوبر 2025 میں خاص طور پر FBR کے لیے مشکلات زیادہ تھیں۔ اس ماہ صرف 955 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ ہدف 1.026 کھرب روپے تھا یوں تقریباً 70 ارب روپے کا فرق رہا۔

ٹیکس کی مختلف اقسام کے لحاظ سے اکٹھا کیے گئے ریونیو کا تجزیہ یہ ہے؛

انکم ٹیکس: 438 ارب روپے

سیلز ٹیکس: 345 ارب روپے

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED): 70 ارب روپے

کسٹمز ڈیوٹی: 107 ارب روپے

ہر بڑے ٹیکس سیکشن نے اپنے مقررہ ہدف کو پورا نہیں کیا۔

عہدیداروں کے مطابق کمی کی وجوہات میں معاشی بحالی کی سست رفتاری، درآمدات میں کمی اور مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ شامل ہیں۔ ایک سینئر FBR اہلکار نے کہا:

درآمدات میں کمی کے باعث کسٹمز اور سیلز ٹیکس کی آمدنی کم ہوئی ہے، جبکہ مجموعی اقتصادی سرگرمیاں ابھی بھی محدود ہیں۔

Related Posts