ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی سابق چیئرپرسن رینا سعید خان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور ان کی ساکھ پر شکوک پیدا کرنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔
یہ تنظیم جو پاکستان کی قدرتی ورثے کی حفاظت کے لیے کام کرتی ہے کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی اداروں اور ان میں کام کرنے والوں کو قانونی اور تحفظی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل حمایت ملنی چاہیے۔
ان کا موقف ہے کہ ماحول اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کو سیاسی، ادارہ جاتی یا ذاتی تعصب سے بالاتر رکھا جائے اور اس معاملے میں تمام کارروائی غیر جانبداری، شفافیت اور قانونی طریقے سے کی جائے۔
جون 2024 میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے 2018 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی جس میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں کمرشل عمارتیں بنانے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور مونال سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو مسمار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
آئی ڈبلیو ایم بی نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مارگلہ ہلز نیشنل پارک، جو ایک قانونی طور پر محفوظ علاقہ اور پاکستان کا اہم ماحولیاتی نظام ہے کی حفاظت کے اقدامات کیے۔
بورڈ نے مونال کی جگہ کو عوامی سبزہ زار میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایاہے تاکہ علاقے کی قدرتی حالت بحال ہو اور شہریوں کے لیے کھلا اور محفوظ ماحول میسر ہو۔ یہ سب اقدامات قانون کی پاسداری اور عالمی تحفظی اصولوں کے مطابق تھے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ قانونی اور سائنسی بنیاد پر کیے گئے تحفظی فیصلے قابل احترام ہیں، خاص طور پر جب وہ عوامی مفاد اور ملک کے قومی و عالمی ماحولیاتی وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔ جو لوگ اور ادارے اچھے نیت سے ماحولیاتی قانون نافذ کرتے ہیں انہیں سزا نہیں بلکہ تعاون اور عزت ملنی چاہیے۔
سابق قیادت میں آئی ڈبلیو ایم بی نے زخمی اور بے گھر جانوروں کے لیے ریسکیو سینٹر قائم کیا نئے عوامی راستے کھولے اور ہفتہ وار کسان مارکیٹ شروع کی جس سے شہریوں کو مقامی اور پائیدار پیداوار ملتی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان آئی ڈبلیو ایم بی اور سی ڈی اے کو مارگلہ ہلز ویو پوائنٹ ایریا کی بحالی اور دوبارہ جنگلی بنانے میں تکنیکی مدد فراہم کرتا رہے گا۔
دوسری جانب، سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرپرسن سفیر شفقات کاکاخیل نے رینا سعید خان کی پیشہ ورانہ خدمات کی تعریف کی اور ان کے دور میں قائم ریسکیو سینٹر، نئے راستوں اور کسان مارکیٹ کو سراہا۔
انہوں نے بورڈ کے سینئر رکن وقار زکریا کی بھی خدمات کو قابل تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نے بلامعاوضہ خدمات انجام دیں، راستے صاف اور محفوظ ہوئے اور نیشنل پارک کی حفاظت بہتر ہوئی۔
انہوں نے دونوں اراکین کے خلاف ایف آئی آر، گھروں پر حملوں، پوسٹرز اور ایف آئی اے انکوائری کی سخت مذمت کی اور اسے بدترین انتقام قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ماحولیات کے ماہر دہائیوں سے دیانت داری سے کام کر رہے ہیں اور صرف سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کی وجہ سے نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ انتظامیہ کو ہدایت دی جائے کہ یہ ظلم بند ہو، ورنہ مستقبل میں کوئی سول سوسائٹی کا فرد سرکاری بورڈ میں شامل ہو کر عوامی خدمت یا عدالت کے حکم کی تعمیل نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ محمد سعید کی شکایت پر ایف آئی اے نے رینا سعید خان کے خلاف کئی الزامات پر ایف آئی آر درج کی ہے جنہیں انہوں نے سختی سے مسترد کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








