باپ درندہ بن گیا، بیٹیوں کی چیخیں سن کر بھی دل نہیں پسیجا! خاندانی جھگڑے کا المناک انجام

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع وقارآباد کے کلکچرلہ منڈل میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ رونما ہوا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ خاندانی جھگڑوں اور روزمرہ کی لڑائیوں سے ستائے ہوئے 38 سالہ یادیو نامی شخص نے بیوی، بھابھی اور 2 بیٹیوں کی جان لے لی۔

پولیس کے مطابق رات کے ساڑھے تین بجے جب گھر والے سو رہے تھے تو ملزم نے پہلے اپنی 32 سالہ بیوی الویلو پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا پھر 13 سالہ بڑی بیٹی اپرنا اور 10 سالہ چھوٹی بیٹی شراونی کو نشانہ بنایا اور آخر میں 40 سالہ بھابھی ہنومما کو بھی قتل کر دیا اور بعد میں خود کو پھانسی لگا کر اپنی جان دے دی۔

اس بھیانک واقعے میں ملزم کی بڑی بیٹی اپرنا شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ سکی۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے پڑوسیوں کو فون کر کے مدد کی درخواست کی جس پر محلے والے آئے اور مگر جب دروازہ توڑا تو گھر لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

اہل محلہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے زخمی لڑکی کو اسپتال منتقل کیا جہاں اسے طبی امداد دی جارہی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اپرنا کی حالت نازک ہے مگر وہ خطرے سے باہر ہو سکتی ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ کا مکمل معائنہ کرکے تمام ثبوت حاصل کیے اور تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہسپتال بھیج دیا۔

ڈی ایس پی سرینواس نے ابتدائی تفتیش کے بعد بتایا کہ یہ سانحہ خاندانی تنازعات کی وجہ سے پیش آیا۔ یادیو اور اس کے گھر والوں کے درمیان کئی ماہ سے جھگڑے چل رہے تھے جو چھوٹی موٹی باتوں پر شروع ہو جاتے تھے اور بعض اوقات تشدد تک جا پہنچتے تھے۔

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ یادیو کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی وہ تناؤ میں رہتا تھا اور کئی بار خودکشی کی دھمکیاں دے چکا تھا۔ پولیس نے خاندان کے دیگر رشتہ داروں سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے اور ممکنہ طور پر مزید شواہ اکٹھے کرنے کے بعد مقدمہ درج کر لے گی۔

یہ واقعہ سن کر پورے وقارآباد ضلع میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لوگ گھروں میں بند ہو گئے ہیں اور خاندانی جھگڑوں کو سنجیدگی سے لینے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ خاندانی تنازعات کو حل کرنے کے لیے کونسلنگ مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ ایسے دردناک حادثات کی تکرار نہ ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں جہاں تعلیم اور آگاہی کی کمی ہے وہاں خاندانی مسائل جلد ہی سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اگر بروقت مداخلت نہ کی جائے تو نتائج انتہائی تباہ کن ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے ایسے دردناک قتل عام کا سلسلہ جاری ہے جو سماجی مسائل کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دسمبر 2024 میں دہلی کے نیب سرائی علاقے میں 20 سالہ ارجن تونور نے اپنے والد، ماں اور بہن کو سوتی ہوئی حالت میں قتل کردیا تھا۔

فروری 2025 میں پونے کے ایک گھر میں ایک خاتون کمل نے خاندانی جھگڑے میں اپنے دو بچوں کو قتل کر دیا اور شوہر پر حملہ کیا۔ وہ خود بھی خودکشی کی کوشش میں تھی مگر پولیس نے بروقت پہنچ کر اسے بچا لیا۔

Related Posts