افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ ڈاریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کی ضامن صرف پاک فوج ہے اور یہ پاکستان اپنی پالیسی بنانے میں مکمل خود مختار ہے۔
ڈاریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا جبکہ ملک میں سرگرم دہشت گرد گروپس جیسے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈرون اور امریکی تعلقات
جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے اور ڈرون حملوں کے حوالے سے طالبان رجیم کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ڈرون پاکستان سے افغانستان نہیں جاتے اور وزارت اطلاعات نے اس کی کئی بار وضاحت بھی کی ہے۔
دہشت گردی اور افغان طالبان
انہوں نے کہاکہ طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری کرتا ہے اور استنبول میں انہیں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنا ان کا کام ہے۔ دہشتگرد جو پاکستان میں آپریشن کے دوران بھاگ کر افغانستان چلے گئے انہیں واپس پاکستان سپرد کیا جائے تاکہ آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
منشیات اور دہشت گردی کا تعلق
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے۔ یہ لوگ افیون کی کاشت کرتے ہیں اور ایک ایکڑ سے 18 سے 25 لاکھ روپے کماتے ہیں، جس میں افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور وار لارڈز بھی حصہ لیتے ہیں۔
فوجی آپریشنز
انہوں نے کہا کہ فوج نے وادی تیرہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے ہیں اور یہ کارروائیاں ملک کی حفاظت کے لیے جاری ہیں جس میں تقریبا 200 جوان اور افسر شہید ہوئے۔فوج کی چوکیوں پر قافلوں کے حملے ہوتے ہیں
حکومت اور دیگر امور
لیفیٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ فوج کے اندر عہدے بنانے کا اختیار حکومت کا ہے، غزہ میں فوج بھیجنے کا فیصلہ بھی حکومت کرے گی اور مساجد و مدارس پر حملوں کے خلاف کارروائیاں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
پاکستان کا موقف
استنبول میں ہونے والی کانفرنس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے کسی کی سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے اور سیزفائر معاہدے کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنی مسلح افواج اور عوام کی حفاظت کے معاملے میں کسی سے منت سماجت نہیں کرتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








