طالبان رہنما بے لگام ہونے لگے، کمانڈر کے بیٹے نے معمولی تنازعے پر کئی شہریوں کو بھون دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

طالبان کمانڈر کے افراد نے چراگاہ کے تنازعے پر ہونے والی جھڑپ میں چھ افراد کو زخمی کر دیا، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق واقعہ افغانستان کے شمالی صوبہ تخار کے ضلع ورسج کے قوندز نامی علاقے میں پیش آیا جہاں طالبان کمانڈر داراب بای کے بیٹے نے مقامی باشندوں میں سے ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کیا، جبکہ دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ضلع ورسج کے مقامی ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ جھڑپ اتوار کو داراب بای کے افراد اور قوندز نامی علاقے کے چند باشندوں کے درمیان پیش آئی۔ ذرائع کے بقول کمانڈر کا بیٹا جماہیر اس جھڑپ کا آغاز کرنے والا تھا۔

ذرائع کے مطابق جماہیر، یعنی داراب بای کا بیٹا، اور اس کے سالے نے ان افراد کو چراگاہ پر قبضے کے معاملے پر مارا پیٹا۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق موصول ہونے والی تصاویر میں زخمی افراد کے جسموں پر خون آلود زخم واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

قوندز علاقے کے افراد نے بتایا کہ طالبان کمانڈر کے سالے کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم اس کا بیٹا اور دیگر افراد اب بھی علاقے میں موجود ہیں اور لوگوں کو دھمکا رہے ہیں کہ وہ ان کے خلاف شکایت درج نہ کریں۔

ذرائع کے مطابق یہ طالبان کمانڈر اس وقت بدخشان میں سونے کی کانوں کی غیر قانونی نکاسی میں مصروف ہے۔
جھڑپ کے بعد وہ واپس ضلع ورسج کے قوندز علاقے میں پہنچ گیا ہے۔

Related Posts