آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں نئی ٹریفک قوانین کے تحت 50 اقسام کی خلاف ورزیوں پر 5 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکساں طور پر پورے سندھ میں کیا جائے گا۔
کراچی میں ’’فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم‘‘ اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ جو شہری 14 دن کے اندر جرمانہ ادا کریں گے، انہیں 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
آئی جی کے مطابق معمولی خلاف ورزیوں پر جرمانہ 2 ہزار سے اڑھائی ہزار روپے کے درمیان رکھا گیا ہے، تاہم مقررہ مدت میں جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اضافی سزائیں اور جرمانے لاگو ہوں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق اس وقت 59 اقسام کی خلاف ورزیاں مانیٹر کی جا رہی ہیں جن پر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ 9 بڑی خلاف ورزیوں پر 5 ہزار روپے سے زائد جرمانہ مقرر ہے۔
کونسی خلاف ورزیاں نوٹ کی جا رہی ہیں؟
ان سنگین خلاف ورزیوں میں الٹی سمت میں گاڑی چلانا، کم عمر ڈرائیونگ، ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلانا، گاڑیوں کی لائٹس بند رکھنا، غیر رجسٹرڈ گاڑیاں، خطرناک ڈرائیونگ، سگنل توڑنا اور غیر قانونی اوور ٹیکنگ شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ خبریں غلط ہیں کہ بھاری گاڑیوں پر بھی وہی جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں جو کاروں یا موٹر سائیکلوں پر کیے جاتے ہیں۔
شکایات مرکز
ڈی آئی جی نے بتایا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کراچی میں 11 سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ایک ایس پی، سی پی ایل سی کے نمائندے اور متعلقہ ڈی ایس پی ٹریفک تعینات ہیں۔ جرمانوں کی اطلاع پاکستان پوسٹ اور سرکاری ایپ کے ذریعے دی جا رہی ہے۔
کتنے چالان کیے گئے؟
پیر کے روز صرف ایک دن میں کراچی ٹریفک پولیس نے مختلف خلاف ورزیوں پر 2 ہزار 296 ای چالان جاری کیے، جن میں 1,499 بغیر سیٹ بیلٹ، 402 بغیر ہیلمٹ، اور 152 سگنل توڑنے پر جرمانے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ 63 ڈرائیورز کو ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے، 38 کو تیز رفتاری، 21 کو غلط سمت میں گاڑی چلانے، 39 کو کالے شیشے لگانے، اور 6 کو حد سے زیادہ وزن لادنے پر چالان کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 20 چالان بس کی چھت پر سواریاں بٹھانے، 16 غلط پارکنگ، اور ایک خطرناک سامان لے جانے پر کیے گئے۔
گزشتہ آٹھ دنوں کے دوران بھاری گاڑیوں پر 516 ای چالان کیے گئے، جن میں 26 بسیں، 9 کرینیں، 25 ڈمپر، 22 آئل ٹینکر، 205 ٹرک، اور 229 واٹر ٹینکر شامل تھے۔
ان میں سے 156 سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، 352 تیز رفتاری، 3 موبائل فون استعمال کرنے، 2 سگنل توڑنے، اور ایک ایک چالان اسٹاپ لائن عبور کرنے اور چھت پر مسافر بٹھانے پر کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








