پنجاب اسمبلی نے پنجاب فنانس (ترمیمی) بل 2025 منظور کر لیا ہے جس کے تحت 500 کے وی اے سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی اور تجارتی صارفین پر نئی بجلی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔
یہ بل کسی کمیٹی کو بھیجے بغیر ہی صوبائی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا۔ ترمیمی قانون کے مطابق 500 کے وی اے سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صنعتی و تجارتی صارفین پر فی یونٹ چار پیسے کی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جبکہ 500 کے وی اے تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنیٰ رہیں گے۔
اسی طرح وہ ادارے جو 500 کے وی اے سے زائد صلاحیت والے جنریٹرز استعمال کر رہے ہیں، انہیں بھی اس ڈیوٹی کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا۔
قانون کے مطابق تمام گھریلو صارفین بجلی ڈیوٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گے جبکہ صنعتی اور تجارتی صارفین جو قومی گرڈ سے منسلک ہیں، ان سے یہ ڈیوٹی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے وصول کی جائے گی۔
ان صارفین کے لیے جو نجی ذرائع سے بجلی پیدا کرتے ہیں، ان سے ڈیوٹی کی وصولی کا اختیار الیکٹرک انسپکٹرز کو دیا گیا ہے۔یہ ترمیم پنجاب فنانس ایکٹ 1964 میں کی گئی ہے اور اب گورنر پنجاب کی حتمی منظوری کے بعد نافذ العمل ہو جائے گی۔
اس نئے اقدام کا مقصد صوبے میں صنعتی و تجارتی شعبوں میں ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور محصولات کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








