لاہور میں اسموگ کیخلاف مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنگ شروع! نتائج کیا ہونگے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Here’s how Lahore fights smog with AI
ONLINE

لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدید ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے اینٹوں کے بھٹوں کی شناخت، ان کا اندراج، جیولوکیشن ٹیگنگ اور رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

یہ نظام بھٹوں کی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے لاہور میں شروع کیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ بھٹوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔

ڈیجیٹل ٹولز برائے آلودگی کنٹرول
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین نے ایک قابل توسیع اے آئی ماڈل تیار کیا ہے جو مصنوعی سیاروں سے حاصل کردہ تصاویر (سیٹلائٹ امیجز) کے ذریعے خودکار طور پر اینٹوں کے بھٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ نظام دو مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں سینٹینل 2 سیٹلائٹ سے حاصل کردہ کم ریزولوشن تصاویر کے ذریعے ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی جاتی ہے، جہاں مخصوص اسپیکٹرم سائنز جیسے جلے ہوئے علاقے، سبزے کی کمی اور تعمیراتی خدوخال کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں، ہائی ریزولوشن تصاویر اور ڈیپ لرننگ کے ذریعے ان مقامات کی تصدیق اور جغرافیائی محلِ وقوع کی درست نشاندہی کی جاتی ہے۔

 

یہ نظام پرانے طریقہ کار کے مقابلے میں 21 گنا تیز ہے، جو پہلے کئی دنوں میں مکمل ہوتا تھا، اب صرف چار دنوں میں جنوبی ایشیا کے برک کلن بیلٹ کی مکمل مانیٹرنگ ممکن بناتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے انڈس گنگا پلین خطے میں 11 ہزار سے زائد بھٹوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے، جن میں سے کئی غیر رجسٹرڈ ہیں۔

پنجاب میں یہ نظام ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کو سردیوں کے اسموگ سیزن میں غیر قانونی بھٹوں کی بروقت شناخت اور کاروائی میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ ڈیجیٹل نظام نہ صرف بھٹوں کی سرگرمیوں کی نگرانی میں مدد دیتا ہے بلکہ کلین ٹیکنالوجی، جیسے زگ زیگ بھٹے، کے نفاذ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ای آئی پر مبنی نگرانی اور ای رجسٹریشن
پنجاب کے ماحولیاتی تحفظ کے محکمے نے بھٹوں کی ای میپنگ اور ڈیجیٹل شناختی کارڈز کے اجرا کا نظام متعارف کرایا ہے۔ ہر بھٹے کو ایک جیولوکیشن ٹیگ کے ساتھ رجسٹر کیا گیا ہے تاکہ ان کی کارکردگی، آلودگی کی سطح، اور قوانین پر عملدرآمد کو رئیل ٹائم میں مانیٹر کیا جا سکے۔

یہ نیا نظام شفافیت، احتساب اور فوری کارروائی کے عمل کو مضبوط بناتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف لاہور کو جدید شہروں کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔

Related Posts