چین کی جانب سے سونے کی فروخت پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی مکمل رعایت ختم کرنے کا اعلان عالمی سونے کی مارکیٹوں میں ہلچل مچا رہا ہے اور اس کا براہ راست اثر پاکستان کی سونے کی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔
چین دنیا کا سب سے بڑا سونے کا صارف اور درآمد کنندہ ہے لہٰذا اس کی پالیسی میں تبدیلیاں عالمی قیمتیں متاثر کرتی ہیں جو پاکستان جیسے درآمد کرنے والے ممالک کے لیے لاگت بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔
عالمی سطح پراثرات:
چین نے یکم نومبر 2025 سے نافذ ہونے والے نئے ضوابط کے تحت شنگھائی گولڈ ایکسچینج سے حاصل سونے پر ریٹیلرز کو 13 فیصد کی بجائے صرف 6 فیصد ٹیکس رعایت دی ہے۔ اس سے جیولری بنانے والے کاروباروں کی لاگت بڑھ گئی جس کی وجہ سے ایشیائی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں 1 فیصد تک گر گئیں حالانکہ بعد میں یہ 4,000 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم ہو گئیں۔
ہانگ کانگ اور چین میں جیولری کمپنیوں کے شیئرز میں 8 سے 12 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ لاگت صارفین تک منتقل ہوجائے گی جس سے سونے کی طلب میں کمی آ سکتی ہے۔
پاکستان کی سونے کی مارکیٹ پر ممکنہ تبدیلیاں:
پاکستان سونے کی 80فیصد سے زیادہ مقدار درآمد کرتا ہے جو زیادہ تر دبئی، لندن اور چین جیسے مراکز سے آتی ہے اور چین کی یہ پالیسی پاکستان کو درج ذیل طریقوں سے متاثر کر سکتی ہے۔
اگر چین میں طلب کم ہوئی تو عالمی سپلائی چینلز میں تبدیلی آئے گی جس سے درآمدات مہنگی ہو سکتی ہیں۔ ڈوئچے بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اثر مختصر مدت کا ہوگا لیکن ابتدائی طور پر قیمتیں 7 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔
پاکستان میں سونے کی قیمتیں (جو عالمی اسپاٹ ریٹ پر مبنی ہیں) اس سے براہ راست متاثر ہوں گی اور 24 قیراط سونے کی ٹولی کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں شادیوں اور تہواروں کی وجہ سے سونے کی طلب زیادہ ہوتی ہے لیکن بڑھتی قیمتیں صارفین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








