مچھروں نے تو جینا محال کردیا ہے! اپنی اور بچوں کی ڈینگی سے حفاظت کیسے کریں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

symptoms of dengue in kids
ONLINE

پاکستان میں مون سون کا سیزن گزرے کئی ہفتے گزرچکے ہیں، موسم اب سردی کی طرف بڑھ رہا ہے اور بدلتے موسم نے شہریوں کو مختلف بیماروں اور پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک میں برسات کے موسم کے دوران کھڑے پانی اور آلودہ ماحول کے باعث بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، خصوصاً ڈینگی، جو مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی ایک خطرناک بیماری ہے۔

یونیسف کے مطابق اس سال ڈینگی کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بچوں میں۔ 25 اگست 2023 تک جنوبی ایشیا میں ڈینگی کے دو لاکھ نو ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 564 اموات شامل ہیں۔ صرف بنگلہ دیش میں 15 سال سے کم عمر کے 21 ہزار سے زائد بچے متاثر ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے عروج کے دوران آئندہ ہفتوں میں کیسز میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے تو ڈینگی سے بچاؤ ممکن ہے۔

ڈینگی کیا ہے؟
ڈینگی ایک فلو جیسی بیماری ہے جو ایڈیز مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ زیادہ تر متاثرہ افراد میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی لیکن بعض میں تیز بخار، جوڑوں کا درد اور دیگر علامات ظاہر ہوسکتی ہیں اور بعض کیسز میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

ڈینگی کیسے پھیلتا ہے؟
ڈینگی براہ راست ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا بلکہ اس وقت پھیلتا ہے جب کوئی ایڈیز مچھر ایسے شخص کو کاٹتا ہے جس کے خون میں وائرس موجود ہو اور پھر وہ مچھر کسی دوسرے شخص کو کاٹتا ہے۔ یہ مچھر زیادہ تر صبح سورج نکلنے کے بعد دو گھنٹے اور شام سورج غروب ہونے سے قبل سرگرم رہتا ہے۔

مچھر عام طور پر گھروں کے آس پاس رکھے گئے پانی، پرانے ٹائروں، بالٹیوں، پلاسٹک کے ڈبوں یا یہاں تک کہ بوتلوں کے ڈھکنوں میں انڈے دیتے ہیں لہٰذا پانی جمع ہونے سے بچاؤ ضروری ہے۔

ڈینگی کی علامات
زیادہ تر متاثرین میں علامات نہیں ہوتیں تاہم جن میں ظاہر ہوں وہ عام طور پر 4 سے 10 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں اور 2 سے 7 دن تک برقرار رہتی ہیں۔

اچانک تیز بخار

شدید سردرد

آنکھوں کے پیچھے درد

جوڑوں اور پٹھوں میں درد

متلی یا قے

گلٹیوں کا سوج جانا

جلد پر خارش یا دھبے

بچوں میں یہ علامات چڑچڑاپن، نیند میں بے ترتیبی اور بھوک میں کمی کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔

علاج اور احتیاط
ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج نہیں تاہم اس کی علامات پر قابو پا کر صحت بحال کی جاسکتی ہے۔

اگر بیماری ہلکی ہو تو مریض کو آرام، زیادہ پانی پینے اور غذائیت سے بھرپور خوراک لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

بخار کے لیے صرف پیراسٹامول دی جانی چاہیے جبکہ آئبوپروفین اور اسپرین جیسے دواؤں سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ خون بہنے کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔

شدید ڈینگی کی علامات اور فوری طبی امداد

اگر بچے یا مریض میں درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً ہسپتال لے جائیں:

مسلسل قے

پیٹ میں شدید درد

سانس لینے میں دشواری

مسوڑھوں یا ناک سے خون آنا

خون قے یا پاخانے میں شامل ہونا

بے چینی، کمزوری یا جلد کا پیلا اور ٹھنڈا ہونا

شدید ڈینگی میں فوری طبی امداد ضروری ہے کیونکہ چند گھنٹوں میں حالت بگڑ سکتی ہے۔

بچوں اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے طریقے
ماہرین کے مطابق مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ ہی ڈینگی سے حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ گھروں اور اسکولوں کے اطراف جمع شدہ پانی ختم کیا جائے، مچھر دانی استعمال کی جائے، اور بچوں کو مکمل کپڑوں میں رکھا جائے۔

اہم احتیاطی تدابیر:

صبح اور شام کے اوقات میں باہر جانے سے پرہیز۔

بازو اور ٹانگوں کو ڈھانپنے والے ڈھیلے کپڑے پہننا۔

گھروں میں مچھر بھگانے والے اسپرے یا کوائل کا استعمال۔

کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگانا۔

بچوں کے پالنے، گاڑی یا کھیلنے کی جگہ پر مچھر دانی لگانا۔

مچھر پیدا کرنے والے مقامات جیسے پرانے ٹائر، گملے، بالٹیاں، اور نالیوں کو صاف رکھنا۔

ڈینگی میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟
عالمی ماہرین کے مطابق ڈینگی کے بڑھتے کیسز کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، طویل بارشیں اور شہری علاقوں میں ناقص صفائی کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہورہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے اب ڈینگی کو ان علاقوں تک پہنچا دیا ہے جہاں پہلے یہ بیماری عام نہیں تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے نہ صرف بچوں بلکہ پوری کمیونٹی کو ڈینگی کے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

Related Posts