کراچی میں آج چائے ہوٹل مالکان کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہر بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے جس کے بعد متعدد علاقوں میں چائے کے ہوٹل بند ہیں۔
یہ احتجاج کراچی چائے ہوٹل ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا، جس نے اعلان کیا ہے کہ اب چائے نہیں ملے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
کراچی کے علاقے پاک کالونی میں واقع مین بڑا بورڈ پر ہوٹلوں نے مکمل شٹرڈاؤن کیا، جہاں احتجاجی بینرز اور ہڑتال کے اعلانات نمایاں طور پر آویزاں کیے گئے۔
کئی ہوٹل مالکان نے کہا کہ وہ اپنے کاروبار بند رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ حکومتی پالیسیوں، ٹیکسوں اور مسلسل مہنگائی نے کاروبار کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
کراچی چائے ہوٹل ایسوسی ایشن کے وفد نے اعلان کیا تھا کہ وہ آج 5 نومبر کو کراچی پریس کلب کے باہر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کریں گے جبکہ 17 نومبر کو سپر ہائی وے پر ایک وسیع احتجاجی دھرنا دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے مطابق، چائے ہوٹلوں پر روزانہ کے اخراجات، بجلی و گیس کے بل، اور حکومتی جرمانوں نے کاروبار کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی تو احتجاج کا دائرہ شہر بھر میں پھیلایا جائے گا۔
ہڑتال کے باعث شہریوں کو صبح و شام کے اوقات میں چائے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ کئی مقامات پر دفاتر جانے والے افراد اور مزدور طبقہ چائے سے محروم رہا۔
عوام کا کہنا ہے کہ حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان فوری مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








