طالبان اور پاکستان ایک بار پھر آمنے سامنے، جمعرات کو استنبول مذاکرات میں کیا نیا موڑ آنے والا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پاک افغان مذاکرات استبنول میں پھر ہوں گے، فائل فوٹو

طالبان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، جس کی سربراہی عبدالحق وثیق (طالبان انٹیلی جنس کے سربراہ) کر رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور کیلئے استنبول روانہ ہوگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کریں گے۔ طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات چھ نومبر کو استنبول میں طے پایا ہے، جو ترکی اور قطر کی ثالثی میں منعقد ہوگا۔

یاد رہے کہ طالبان کی افغان انتظامیہ اور پاکستان کے درمیان پہلا دور مذاکرات قطر میں ہوا تھا، جبکہ دوسرا دور استنبول میں ہوا تھا جو دونوں فریقوں کے اختلافات کے باعث کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے زیر انتظام افغان ٹیلی ویژن کو تصدیق کی ہے کہ عبدالحق وثیق کی قیادت میں ایک وفد بدھ کے روز استنبول کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

دوسرے دور کے مذاکرات کا اختتام دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی جاری رکھنے کے معاہدے پر ہوا تھا، لیکن وہ اہم معاملات پر اتفاق نہ کر سکے، جن میں طالبان کی طرف سے یہ تحریری ضمانت دینا شامل تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف کسی دہشت گرد تنظیم کے استعمال میں نہیں آئے گی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کی جانب سے طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تحریری طور پر یقین دہانی کرائیں کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم طالبان نے افغانستان میں غیر ملکی گروہوں کی سرگرمیوں کی تردید کی ہے لیکن وہ تحریری ضمانت دینے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

Related Posts