برازیلی ماڈل گرل بھارت میں ووٹ ڈالیں گی؟ مودی سرکار کا ووٹر کارڈ اسکینڈل سامنے آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارت میں ایک غیر معمولی تنازع اُس وقت کھڑا ہوگیا جب ایک برازیلی ماڈل لیلا لیتے (Laila Leite) کی تصویر مبینہ طور پر متعدد ووٹر شناختی کارڈز پر نظر آئی۔ اس انکشاف نے ملک میں انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے اور سیاسی بحث چھڑ گئی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس پارٹی کے بعض اراکین اور حامیوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست ہریانہ کی ایک سرکاری ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کی جگہ برازیلی ماڈل کی تصویر موجود ہے۔

کچھ رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ تقریباً 22 ووٹنگ اسٹیشنز پر سامنے آیا جس سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ جعلی ووٹرز کے ذریعے بوٹھ کیپچرنگ یا انتخابی دھاندلی کی کوشش کی گئی۔

بعد ازاں حقائق جانچنے والے اداروں (فیکٹ چیکرز) نے تحقیقات کے بعد بتایا کہ ماڈل کی تصویر دراصل نمونہ یا تربیتی مواد میں استعمال کی گئی تھی جو انتخابی عملے کو ٹریننگ دینے کے دوران بطور مثال دکھایا جاتا ہے۔ ایسے مواد میں اکثر عام اسٹاک تصاویر استعمال کی جاتی ہیں تاکہ اصل شہریوں کا ڈیٹا ظاہر نہ ہو۔

اس معاملے پر خود لیلا لیتے نے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے بھارتی انتخابات سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ان کی تصویر کا سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی جماعت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے وضاحت دی کہ یہ محض غلط فہمی تھی تاہم اس معاملے نے بھارتی سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی اور دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔

بالآخر یہ معاملہ ایک نمونہ تصویر کو اصلی ووٹر سمجھنے کی غلطی ثابت ہوا مگر اس نے انتخابی نظام اور آن لائن غلط معلومات کے پھیلاؤ پر نئی بحث چھیڑ دی۔

Related Posts