بھارت میں ایک بڑے مذہبی اسکینڈل نے ہلچل مچا دی ہے جہاں جنوبی ریاست کیرالہ کی ہائی کورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مشہور مندر میں ہندو دیوتاؤں کے مجسموں سے سونا چُرا لیا گیا۔ عدالت کے مطابق مقدس بتوں پر چڑھائی گئی سونے کی پرتیں غائب پائی گئیں۔
بھارت بھر میں عقیدت مند اپنی عبادت گاہوں میں بتوں کو سجانے کے لیے سونا اور چاندی کا عطیہ دیتے ہیں مگر صدیوں پرانے سبری مالا مندر سے سونا چوری ہونے کی خبر نے لاکھوں بھگتوں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ مندر بھگوان آیاتپا کے نام سے منسوب ہے اور ہر سال لاکھوں یاتری یہاں حاضری دیتے ہیں۔
کیرالہ ہائی کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ پولیس نے اب تک تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں مندر کے ایک سابق معاون پجاری بھی شامل ہیں۔ یہ مقدمہ ستمبر سے دو رکنی عدالتی بینچ باقاعدگی سے سن رہی ہے۔
یہ اسکینڈل خاص طور پر مندر کے مرکزی دروازے پر موجود دو دوارپالک (گیٹ کیپر) کے مجسموں سے متعلق ہے جن سے سونے کی تہہ اتارلی گئی تھی۔
عدالت کو یہ مقدمہ اس وقت موصول ہوا جب عدالت کے مقرر کردہ ایک خصوصی کمشنر نے رپورٹ دی کہ مجسموں کی سونے کی پرتیں اتر چکی ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے مندر کے ریکارڈ، مرمت سے پہلے اور بعد کی تصاویر اور تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جمع کردہ شواہد کا جائزہ لیا۔ ججز نے اسے بھگوان آیاتپا کے خزانے سے غیر معمولی چوری قرار دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1998–99 میں تقریباً 30 کلوگرام سونا جو متنازع بھارتی تاجر وجے مالیا نے عطیہ کیا تھا ان ہی مجسموں اور مندر کے ستونوں، دروازوں اور دیواری آرائش میں استعمال کیا گیا تھا۔
عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ جب عدالت نے مندر انتظامیہ سے مرمت کے مکمل ریکارڈ طلب کیے تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک بھنبھناتے چھتے کو چھیڑ بیٹھے ہیں۔
یہ کیس نہ صرف مذہبی بلکہ قانونی اور سماجی سطح پر بھی بھارت بھر میں بحث کا باعث بن گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








