سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں مفتی طارق مسعود نے نومنتخب میئر نیو یارک کے ٹوئٹر ہینڈل کو مینشن کرتے ہوئے کہا کہ ظہران ممدانی کو نیو یارک کے میئر شپ میں تاریخی فتح مبارک ہو۔
انہوں نے لکھا کہ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ جب مسلمان ایمان، انصاف اور خدمت کے راستے پر چلیں تو دنیا کے بڑے شہروں میں بھی ان کی قیادت چمکتی ہے۔
ظہران ممدانی کو نیو یارک کے میئر شپ میں تاریخی فتح مبارک!
یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ جب مسلمان ایمان، انصاف اور خدمت کے راستے پر چلیں تو دنیا کے بڑے شہروں میں بھی ان کی قیادت چمکتی ہے۔@ZohranKMamdani @Muftitm— Mufti Tariq Masood (@Muftitm) November 6, 2025
مفتی طارق مسعود کی ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب نیا میئر ہم جنس پرستوں کا حامی بھی ہے اور ایک مکمل لبرل شخص بھی ہے۔
LGBTV دوبارہ سے چالو ہو گیا
کیا یہ بھی ایمان کا حصہ ہے مفتی جی ؟ pic.twitter.com/aPXEqbJix2
— Hashmat Deen Mohammad (@ChHashmatDeen) November 6, 2025
ایک صارف نے انتہائی سخت انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دجال کے سامنے آنے پر بھی مفتی صاحب اسے مبارکباد دیں رہے ہو گے۔
حماد عزیز نامی ایک صارف نے مفتی طارق مسعود کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب ہر معاملے میں اپنی رائے نہ دیا کریں جب آپکو علم نہ ہو کسی بات کا۔ یوٹیوبر اور عالم میں کوئی تو فرق رہنے دیں۔
ایک اور صارف نے کہا کہ کیا یہی سیکولر ہر قسم آزادی کے قائل لوگ آپ پاکستان میں قبول ہے ؟ کیا پاکستان سے اسلامی لفظ ہٹانے تمہیں قبول ہے ؟ جواب ضرور نفی میں ہے مگر پھر ںیورریاک میں ان چیزوں کی مبارکباد کیوں دیتے ہو ؟ آپ کو یوٹیوب تک محدود رہنا چاہیے۔
عجیب بہت عجیب!
کیا یہی سیکولر ہر قسم آزادی کے قائل لوگ تمہیں پاکستان میں قبول ہے ؟
کیا پاکستان سے اسلامی لفظ ہٹانے تمہیں قبول ہے ؟ جواب ضرور نفی میں ہے
مگر پھر ںیورریاک میں ان چیزوں کی مبارکباد کیوں دیتے ہو ؟آپ کو یوٹیوب تک محدود رہنا چاہیے مفتی صاحب یہ آپ کا میدان نہیں
— مومند Sana ullah (@ISullahMMD) November 6, 2025
واضح رہے کہ نیو یارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی شیعہ مسلمان ہیں اور ان کا تعلق اثنا عشری فرقے سے ہے۔ شیعہ مکتبِ فکر خصوصاً اثنا عشری عقیدہ، عدل، مساوات اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر گہرا زور دیتا ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو ممدانی کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔
ظہران ممدانی کے والد محمود ممدانی معروف علمی و فکری شخصیت ہیں جن کا کام شناخت اور سیاست کے موضوعات پر مبنی ہے۔ ان کا خاندانی پس منظر ہندوستانی نژاد مشرقی افریقہ کے تارکین وطن سے جڑا ہے جس نے ان کے فکری سفر اور نظریاتی پہچان کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔
ان کی والدہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں جس کے باعث ان کی پرورش ایک ہم آہنگ مذہبی ماحول میں ہوئی۔ ظہران ممدانی اپنے مذہبی عقائد کو اپنی ثقافتی اور ذاتی شناخت کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔
ظہران ممدانی کمپالا، یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوگئے۔ انہوں نے اپنی مذہبی شناخت پر کھل کر بات کی ہے اور کہا ہے میں ایک شیعہ مسلمان ہوں، لیکن میری پرورش ایک بین المذاہب خاندان میں ہوئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








