ایران کی سعودی پاک دفاعی معاہدے میں شمولیت؟ جانیں مسلم دنیا میں کیا ہونے جا رہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایران نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ایک انٹرویو میں تہران کو بھی دفاعی معاہدے میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اسلام آباد کے دورے کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک مقامی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ایران کو بھی اس دفاعی معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

یہ معاہدہ جسے اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کہا گیا ہے 17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا تھا۔ اس میں یہ شق شامل ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیت کو بہتر کرنا اور دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو باضابطہ شکل دینا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو چاہیے کہ وہ ایک مشترکہ اسلامی فوجی اتحاد قائم کرے بالکل نیٹو (NATO) طرز پر تاکہ اگر کسی ایک اسلامی ملک پر حملہ ہو تو باقی تمام ممالک اسے اپنے خلاف جارحیت سمجھیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو غزہ میں صرف فلسطینی عوام کے تحفظ اور مدد کے لیے اپنی افواج بھیجنی چاہئیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جو اسرائیل کی طاقت کو مزید بڑھائے۔

اس سے قبل فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرم شیخ اور ان کے وفد سے ملاقات میں ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایران کے عوام پاکستان کی اسرائیلی جارحیت کے دوران حمایت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امتِ مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہے اور ایران و پاکستان کو درپیش مشترکہ چیلنجز کو باہمی تعاون سے حل کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts