بالی وڈ کی معروف کوریوگرافر، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر فرح خان نے کئی دہائیوں بعد ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے فلمی دنیا کو حیران کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اپنے فنی سفر کے ابتدائی دنوں میں ایک فلم کے دوران انہیں ڈائریکٹر کی جانب سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرح خان نے ٹوئنکل کھنہ اور کاجول کے پروگرام میں شرکت کے دوران کھل کر گفتگو کی اور اپنی زندگی کے کئی پوشیدہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ میں ایک فلم کے لیے کوریوگرافی کر رہی تھی۔ ایک دن جب میں اپنے کمرے میں گانے کے بارے میں سوچ رہی تھی تو وہ فلم ساز وہاں آ گیا اور بات کرنے کے بہانے میرے بیڈ کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔
فرح خان کے مطابق اس نازیبا حرکت پر انہوں نے فوراً ردِ عمل دیا اور اسے کمرے سے نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت حالات ایسے تھے کہ انہیں کسی بھی صورت کام جاری رکھنا پڑا کیونکہ مالی حالات مستحکم نہیں تھے۔
مجھے ہر حال میں کام کرنا تھا، ہمارے پاس زیادہ پیسے نہیں ہوتے تھے، اسی لیے اب میری کوشش ہے کہ میں اتنا کماؤں کہ میرے بچوں کو کبھی کسی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پروگرام میں شریک اداکارہ ٹوئنکل کھنہ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منظر کی عینی شاہد تھیں۔
ٹوئنکل کے مطابق وہ فلم ساز فرح کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ فرح کو چاہیے تھا کہ وہ اسے زور دار تھپڑ مارتی، کیونکہ جو کچھ ہوا وہ واقعی ناقابلِ برداشت تھا۔
فرح خان کا یہ بیان فلم انڈسٹری میں ہراسانی کے حساس مسئلے پر ایک بار پھر بحث چھیڑ رہا ہے۔ کئی فنکاروں نے ان کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کو چھپانے کے بجائے سامنے لانا معاشرے میں بیداری پیدا کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








