وائٹ ہاؤس نے ٹیلر سوئفٹ کا گانا سیاسی ویڈیو میں استعمال کر لیا، مداحوں کا شدید ردعمل

تازہ ترین

تازہ ترین

White House uses Taylor Swift song and swifties are not happy
ONLINE

امریکا میں ایک نئی سیاسی تنازع نے جنم لیا ہے جب وائٹ ہاؤس کے سرکاری ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کا مشہور گیت استعمال کیا گیا اور وہ بھی بغیر اجازت۔

یہ ویڈیو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں بنائی گئی تھی حالانکہ ٹرمپ ماضی میں سوئفٹ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

یہ ویڈیو 4 نومبر 2025 کو وائٹ ہاؤس کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر شائع کی گئی، جس میں ٹیلر سوئفٹ کے حالیہ نمبر ون گانے کو پس منظر میں شامل کرتے ہوئے صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی تصویری جھلکیاں دکھائی گئیں۔

چونکہ وائٹ ہاؤس ایک سرکاری اور تجارتی ادارہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے قانون کے مطابق اسے یہ گانا استعمال کرنے سے پہلے سوئفٹ کی ٹیم سے اجازت یا لائسنس حاصل کرنا ضروری تھا جو کہ نہیں لیا گیا۔

View this post on Instagram

A post shared by Khabrain Digital (@khabraindigital)

 

یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ حساس بن گیا ہے کیونکہ ٹیلر سوئفٹ ماضی میں ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر چکی ہیں اور کمالا ہیرس کی سیاسی حمایت کر چکی ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بھی سوئفٹ کے خلاف منفی تبصرے کیے تھے۔

جب اس بارے میں معروف امریکی جریدے ورائٹی نے وائٹ ہاؤس سے سوال کیا تو ایک اہلکار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ہم نے یہ ویڈیو اس لیے بنائی تاکہ جعلی خبروں کے ادارے جیسے ورائٹی خود اسے مشہور کریں، مبارک ہو، تم لوگ فریب میں آگئے۔

دوسری طرف ٹیلر سوئفٹ کے مداحوں جنہیں عام طور پر سوئفٹیز کہا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔

مداحوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوئفٹ فوری طور پر وائٹ ہاؤس کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کریں، جس میں سیز اینڈ ڈیسِسٹ نوٹس یا مقدمہ دائر کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

اس تنازع نے آن لائن ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے، جہاں کئی صارفین نے اس گانے کی پیروڈی ویڈیوز بنائیں، جن میں بعض نے ٹرمپ پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔

فی الحال ٹیلر سوئفٹ نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا اور نہ ہی قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے تاہم ماضی میں دیگر گلوکار بھی ٹرمپ کی مہم کے دوران اپنی موسیقی کے غیر مجاز استعمال پر قانونی اقدامات کر چکے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ سیاسی مہمات میں مشہور گانوں کا استعمال کہاں تک قانونی اور اخلاقی ہے، خاص طور پر جب وہ فنکار خود کسی مخالف سیاسی موقف کے حامی ہوں۔

Related Posts