اسلام آباد پولیس نے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین اور سابق رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو نو مئی کے کیسز میں گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حامد رضا پشاور سے فیصل آباد جا رہے تھے جہاں وہ رضاکارانہ گرفتاری دینے کا ارادہ رکھتے تھے تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں راستے میں ہی حراست میں لے لیا۔
اس پیشرفت کی تصدیق کارگزار چیئرمین صاحبزادہ حسن رضا نے بھی کی ہے جنہوں نے بتایا کہ پارٹی سربراہ کو اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
صاحبزادہ حامد رضا نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ سرنڈر کریں گے۔ ہمیں انصاف ملنے کی پوری امید ہے۔ صاحبزادہ حسن رضا pic.twitter.com/KCuGxsq4GS
— Sahibzada Hamid Raza (@_SahibzadaHamid) November 7, 2025
واضح رہے کہ اس سے قبل فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 104فیصل آباد10 سے منتخب ہونے والے رکن صاحبزادہ محمد حامد رضا کو عمران خان کے 100 سے زائد حامیوں کے ساتھ 2023 کے پرتشدد مظاہروں اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سزا سنائی تھی۔
عدالتی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 5 اگست 2025 کو حامد رضا کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ اسی روز کمیشن نے تحریک انصاف سے منسلک دیگر رہنماؤں جیسے شبلی فراز، عمر ایوب، اور زرتاج گل کو بھی 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے پر نااہل قرار دیا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق حامد رضا کی گرفتاری کے بعد سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے اور جلد ہی پارٹی کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








