امریکی شہر نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی نے تاریخ رقم کر دی ہے،وہ 4 نومبر 2025 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد شہر کے پہلے مسلمان، جنوبی ایشیائی نژاد اور ایک صدی سے زائد عرصے میں سب سے کم عمر میئر بن گئے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ظہران ممدانی ماضی میں پاکستان کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے امریکن پاکستانی ایڈووکیسی گروپ سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے مناظر دیکھنے کا موقع ملا اور وہاں کی جوش و خروش بھری فضا نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔
ممدانی نے بروکلین میں منعقد ہونے والی یوم آزادی پاکستان کی تقریب میں شرکت کی، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ان کے پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے ساتھ تعلقات کافی مضبوط ہیں، اور انہوں نے متعدد تقریبات میں شرکت کی جن میں امریکن پاکستانی ایکشن گروپ کے زیر اہتمام اجتماعات بھی شامل ہیں۔
ایک 23 مارچ (یومِ پاکستان) کے موقع پر ہونے والے پروگرام میں ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے پاکستانی امریکیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی کہانی خود بیان کریں، کیونکہ بہت عرصے سے پاکستان کی کہانی دوسروں نے بیان کی ہے۔
اسی موقع پر ظہران ممدانی نے فیض احمد فیض کی مشہور انقلابی نظم بول بھی پڑھ کر سنائی، جس سے ان کا پاکستانی ادبی اور ثقافتی ورثے سے گہرا تعلق ظاہر ہوتا ہے۔
ان کی کامیابی کو پاکستانی میڈیا نے نمایاں کوریج دی ہے، جب کہ ظہران ممدانی نے جیو نیوز، اے آر وائی نیوز سمیت کئی پاکستانی نشریاتی اداروں کو خصوصی انٹرویوز دیے جن میں انہوں نے نیویارک کے لیے اپنے وژن اور انتخابی مہم پر روشنی ڈالی۔
میئر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنی تمام خواتین پر مشتمل عبوری ٹیم کے لیے برطانوی نژاد پاکستانی شخصیت لینا خان کو مقرر کیا۔
ظہران ممدانی کا تعلق یوگینڈا نژاد بھارتی پس منظر سے ہے۔ ان کی والدہ معروف فلم ساز میرا نائر ہیں، جو جنوبی ایشیا میں ایک نمایاں نام رکھتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








