آر ایل این جی کنکشن لینے والے شہری اضافی اخراجات کے لیے تیار رہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

حکومت نے آر ایل این جی (ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس) کے نئے کنکشن کے لیے درخواست دینے والے صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ آر ایل این جی روایتی سوئی گیس سے زیادہ مہنگی ہوگی اور اس کے نتیجے میں ماہانہ بل بھی زیادہ آئیں گے۔

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ آر ایل این جی کی زیادہ قیمت کے پیشِ نظر گیس ہیٹرز اور گیزرز کو موسمِ سرما میں احتیاط سے استعمال کریں۔

دوسری جانب پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے بتایا کہ حکومت نے آر ایل این جی پر مبنی گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کر دی ہے اور اب تک تقریباً ڈھائی لاکھ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ اُن کے مطابق اُن صارفین کو ترجیح دی جائے گی جنہوں نے پہلے سے نئے کنکشن کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔

یاد رہے کہ ستمبر میں حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور گیس کمپنیوں سوئی ناردرن (SNGPL) اور سوئی سدرن (SSGCL) کو ہدایت دی تھی کہ وہ بغیر کسی سبسڈی کے آر ایل این جی پر مبنی ماہانہ ٹیرف کے تحت نئے گیس کنکشنز کی درخواستیں پراسیس کریں۔

وزارتِ توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے مطابق وفاقی کابینہ نے 10 ستمبر کو اپنے اجلاس میں نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی میں نرمی کی منظوری دی تھی اور واضح کیا تھا کہ نئے صارفین کو سبسڈی والی آر ایل این جی فراہم نہیں کی جائے گی۔

اس فیصلے کے تحت سوئی گیس کمپنیاں اب تمام نئی درخواستوں کو اوگرا کے طے کردہ اور نوٹیفائی کیے گئے آر ایل این جی ٹیرف کے مطابق پراسیس کرنے کی مجاز ہوں گی۔

Related Posts