وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ مسودہ قانون و انصاف کی مشترکہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔
انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ آئینی عدالت کے قیام پر پارلیمنٹ بل پاس کرے گی اور اس بل کی منظوری کے لیے حکومت حلیف جماعتوں کے ساتھ اشتراک کرے گی۔
وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئینی عدالت کے قیام پر اتفاقِ رائے حاصل ہو چکا ہے اور ججز کے تبادلے (ٹراسفر) کے معاملات کو جوڈیشل کمیشن کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 پر ماضی میں حاصل شدہ اسباق کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے ملک بھر میں ایک ہی وقت میں انتخابات کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ہر تین سال بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کو آئینی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عہدے جو سابقہ آرمی ایکٹ میں شامل تھے، آئین میں ان کا ذکر نہیں، جیسے فیلڈ مارشل کا عہدہ۔
وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے کے بعد آئین کا حصہ بن جائے گی۔ پہلے پانچ ایڈوائزرز کی اجازت تھی، اب سات ایڈوائزرز کرنے کی تجویز ہے۔
وزیر قانون نے زور دیا کہ ملک میں سیاسی استحکام اور ہم آہنگی کی ضرورت بہت زیادہ ہے اور حکومت جلد ہی سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








